ٹی ایل پی واقعے پرجعلی خبروں کیخلاف کارروائی شروع، فیک نیوز نیٹ ورکس بے نقاب، مرکزی کرداروں کی فہرست تیار
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
ٹی ایل پی واقعے پرجعلی خبروں کیخلاف کارروائی شروع، فیک نیوز نیٹ ورکس بے نقاب، مرکزی کرداروں کی فہرست تیار Supporters of the banned Islamist political party Tehrik-e-Labaik Pakistan (TLP) chant slogans during a protest demanding the release of their leader and the expulsion of the French ambassador over cartoons depicting the Prophet Mohammed, in Lahore, Pakistan October 22, 2021.
اسلام آباد (آئی پی ایس )حکومت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) واقعے پرجعلی خبروں کیخلاف کارروائی شروع کردی۔ذرائع کے مطابق فیک نیوز نیٹ ورکس بے نقاب اور مرکزی کرداروں کی فہرست تیار کرلی گئی ہے اور ملوث افراد کے خلاف این سی سی آئی اے کے تحت مقدمات درج ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیپ فیک لیب ایکٹو، جعلی ویڈیوز اور آڈیوز کی فارنزک جانچ جاری ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نوٹسز جاری کرنے کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا، سوشل میڈیا سے فیک مواد 24 گھنٹے میں ہٹانے کی ہدایات دی ہیں اور باربارخلاف ورزی پر اکانٹس کی مستقل معطلی کی سفارش بھی زیرغور ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ عوام محتاط رہیں، غیرمصدقہ ویڈیوز یا کلپس شیئر کرنے پر کارروائی ہوسکتی ہے، ریاستی اداروں کیخلاف نفرت انگیز جھوٹ پرزیروٹالیرنس پالیسی نافذ ہے۔
ذرائع کے مطابق پروپیگنڈا فیک نیوزکے پیچھے موجود اوورسیزنیٹ ورک کی ٹریسنگ شروع کردی گئی ہے اور اوورسیزنیٹ ورک کیخلاف سفارت خانوں کے ذریعے سخت اقدامات کی تیاری بھی جاری ہے۔ذرائع نے بتایاکہ بیرونِ ملک ملوث افراد کے خلاف قانونی اور سفارتی کارروائیاں پلان کی جارہی ہیں، ریڈ نوٹس اور بین الاقوامی تعاون کے آپشنز پر مشاورت بھی جاری ہے۔
گمراہ کن ہیش ٹیگز اور ٹرولنگ سیلزکے خلاف بھی ٹارگٹڈ آپریشن شروع کردیا گیا جبکہ فیک نیوزکے مالی سہولت کاروں کی نشاندہی، مشکوک ٹرانزیکشنزکی اسکریننگ جاری ہے۔ذرائع کے مطابق ہنگامی حالات میں افواہ سازی پر اضافی سزائیں لاگو ہوں گی، اس طرح کے فیک اکانٹس بھارت اورافغانستان سے آپریٹ ہورہے ہیں، صوبائی فوکل پرسنز نامزد کردیے گئے اور فوری ری ایکشن اور کانٹر میسجنگ یونٹس بھی فعال کردیے جبکہ فیک نیوز رپورٹ کرنے کیلئے سرکاری ہیلپ لائن 1919 ایکٹو کردی گئی، شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔ حکام نے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ چینلزاوربلاگرزکوئی بھی مواد نشرکرنے سے پہلے دوہری تصدیق یقینی بنائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبر‘میرا سر شرم سے جھک گیا’، جاوید اختر کی بھارت میں افغان وزیر خارجہ کے استقبال پر سخت تنقید ‘میرا سر شرم سے جھک گیا’، جاوید اختر کی بھارت میں افغان وزیر خارجہ کے استقبال پر سخت تنقید پولیس نے سعد رضوی کے گھر چھاپے میں برآمد ہونیوالے قیمتی سامان اور نقدی کی تفصیل جاری کردی لاہور ٹیسٹ کا تیسرا روز ختم، جنوبی افریقا کو جیت کیلئے 226 رنز درکار نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریٹریشن کے وفد کا سی ڈی اے کا دورہ کرکٹ ٹیم کے برعکس رویہ:سلطان آف جوہر ہاکی کپ میں پاک بھارت کھلاڑیوں کا مصافحہ پاکستان نے یقین دلایا ہے کہ ہمارے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا: چینCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیمذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فیک نیوز
پڑھیں:
پاکستان میں منرل واٹر کے غیرمعیاری اور مضر صحت برانڈز کونسے ہیں؟ فہرست جاری
پاکستان کونسل برائے تحقیقاتِ آبی وسائل (PCRWR) نے اپنی تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ میں ملک میں فروخت ہونے والے متعدد منرل واٹر برانڈز کو انسانی صحت کے لیے غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔
جولائی تا ستمبر جاری کردہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق 205 برانڈز میں سے 26 معیار کی مطلوبہ معیار پر پورا نہ اتر سکے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں 26 منرل واٹر برانڈز انسانی صحت کے لیے غیرمحفوظ قرار
رپورٹ کے مطابق 17 مختلف برانڈز میں خطرناک جراثیم موجود پائے گئے۔ ان میں اے ٹو زی پیور ڈرنکنگ واٹر، نیو مہران، زلمی، پیور لائف، دیر ڈرنکنگ واٹر، ڈریم پیور، گلف، کرسٹل ایکوا، روحا واٹر، پریمیم ڈرنکنگ واٹر، فریش ایکوا، ایشیا ہیلتھی ڈرنکنگ واٹر، آئس برگ، لاثانی، وولگا اور مایا پریمیم جیسے نام شامل ہیں۔
کئی برانڈز میں کیمیکل اجزا مقررہ معیار سے زیادہ پائے گئے، جب کہ بڑی تعداد جراثیم سے آلودہ تھی۔ ماہرین کے مطابق ان برانڈز کا استعمال صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
پی سی آر ڈبلیو آر کے مطابق 4 برانڈز میں سوڈیم کی مقدار غیر معمولی حد تک زیادہ تھی، جن میں پیور ڈرنکنگ واٹر، الٹسن اور پیوریفا شامل ہیں۔ اسی طرح سنکھیا (آرسنک) کی زیادہ مقدار نیچرل پیور لائف، ایکوا نیسٹ، پریمیم صفا پیوریفائڈ واٹر، پیو پانی بوتل ڈرنکنگ واٹر اور وولگا میں پائی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: کیا اسپارکلنگ واٹر واقعی کولڈ ڈرنکس کا صحتمند متبادل ہے؟
رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ 2 برانڈز میں پوٹاشیم ضرورت سے زیادہ تھا جن میں مائی پیور واٹر اور سمارٹ پیور لائف شامل ہیں، جبکہ بعض برانڈز میں ٹی ڈی ایس کی مقدار بھی حد سے بڑھ چکی تھی۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یہ آلودہ پانی متعدد بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے شہری پینے کے پانی کی خریداری میں خصوصی احتیاط سے کام لیں اور صرف معیاری و مستند برانڈز کا استعمال کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پانی صحت مضر صحت منرل واٹر