48 انچ قطر کی لائن میں رساؤ، مرمتی کام جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ترجمان کراچی واٹر کارپوریشن کے مطابق نارتھ ایسٹ پمپنگ اسٹیشن پر K-II کی 48 انچ قطر والی رائزنگ مین لائن میں پانی کے رساو? کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے باعث ہنگامی بنیادوں پر مرمتی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ مرمت کے دوران متعلقہ وال کو بھی تبدیل کیا جائے گا، جبکہ مرمتی سرگرمیاں 24 گھنٹے کی مسلسل شفٹوں میں جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کو کم سے کم تکلیف ہو اور لائن جلد از جلد بحال کی جا سکے۔ ادارے نے مرمتی کام کو 48 گھنٹوں کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ واٹر کارپوریشن کے مطابق مرمتی کام کے دوران نارتھ ایسٹ پمپنگ اسٹیشن کے 11 میں سے 3 پمپس کو عارضی طور پر بند کیا گیا ہے، جبکہ دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بھی ایک پمپ مرمتی ضرورت کے باعث بند رکھا گیا ہے۔ ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ صفورہ ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد، گلبرگ ٹاؤن، لیاقت آباد ٹاؤن اور گلشن اقبال کے متاثرہ علاقوں میں پانی ذخیرہ کریں اور استعمال میں احتیاط برتیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی شہر کو یومیہ مجموعی طور پر 650 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جاتا ہے، تاہم مرمتی سرگرمیوں کے دوران تقریباً 150 ایم جی ڈی پانی کی کمی واقع ہوگی۔ اس کے باوجود شہر کو 500 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی معمول کے مطابق جاری رکھی جائے گی تاکہ شہریوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مرمتی کام
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔