میڈیا سے خبر ملی کہ وزیراعلیٰ کیلئے نامزد کیا گیا ہے، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پی ٹی آئی رہنما محمد سہیل آفریدی نے علی امین گنڈا پور کو عہدے سے ہٹانے اور انہیں وزیراعلیٰ کا امیدوار قرار دینے کی خبروں پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بھی میڈیا سے خبریں ملی ہے کہ وزیر اعلیٰ کے لیے نامزد کیا گیا ہوں، پارٹی قیادت سے مجھے کوئی معلومات نہیں ملی۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی تبدیلی کے حوالےسےکوئی پتہ نہیں، وزیر اعلی کی قیادت میں صوبہ بہتری کی طرف گامزن ہے ۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ علیمہ خان اور علی امین گنڈاپور کے درمیان جاری سیاسی کشمکش اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ گئی۔ سیاسی تنازعات کے باعث علی امین گنڈاپور سے استعفیٰ لیا جائے گا، جب کہ نئے وزیراعلیٰ کا تعلق ضم شدہ اضلاع سے ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے وزیراعلیٰ کے ممکنہ امیدواروں میں سہیل آفریدی کا نام سرفہرست ہے، جن کا تعلق ضلع خیبر سے ہے۔
واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور اور علیمہ خان کے درمیان طویل عرصے سے سیاسی اختلافات جاری تھے، اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور سہیل ا فریدی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔