لاہور، ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کے گھر سے برآمد نقدی اور قیمتی سامان کی تفصیل جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
لاہور:
پولیس نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی کے گھر پر چھاپے کے دوران برآمد ہونے والے قیمتی سامان اور نقد رقم کی تفصیل جاری کردی۔
لاہور پولیس کے مطابق سربراہ ٹی ایل پی سعد رضوی کے گھر پر چھاپے کے دوران کروڑوں روپے نقد اور زیورات برآمد ہوئے تھے۔
پولیس نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سعد رضوی کے گھر سے 14 کروڑ 44 لاکھ کی پاکستانی کرنسی برآمد ہوئی۔
پولیس نے بتایا کہ سربراہ ٹی ایل پی کے گھر سے 6 کروڑ 34 لاکھ سے زائد مالیت کا سونا برآمد ہوا۔
پولیس کے مطابق غیر ملکی کرنسی میں 50 ہزار بھارتی روپے بھی برآمد ہوئے، اسی طرح برطانیہ، کینیڈا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی کرنسی بھی برآمد ہوئی ہے، غیر ملکی کرنسی کی مالیت 25 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ سعد رضوی کے گھر پر پولیس کے چھاپے کے دوران برآمدگی پر وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اور سائبر کرائم ایجنسی کے نمائندوں کی گواہی بھی شامل ہے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سعد رضوی کے گھر ٹی ایل پی
پڑھیں:
وائٹ ہاؤس فائرنگ کیس میں بڑی پیش رفت، افغان حملہ آور کے گھر سے اہم شواہد برآمد
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے معاملے میں تفتیش مزید آگے بڑھ گئی ہے۔
امریکی تفتیش کاروں نے مشتبہ حملہ آور اور اس سے منسلک افغان شہریوں کے گھروں پر چھاپے مار کر متعدد مقامات کی تلاشی لی ہے۔
ایف بی آئی نے ریاست واشنگٹن اور سان ڈیاگو میں کارروائی کرتے ہوئے کئی گھروں سے الیکٹرانک آلات، موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور آئی پیڈز قبضے میں لے لیے جن کا تکنیکی تجزیہ جاری ہے۔
ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل کے مطابق گرفتار افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے رشتہ داروں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے تاکہ فائرنگ کے محرکات کا تعین کیا جاسکے۔ حکام نے بتایا کہ رحمان اللہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ واشنگٹن میں مقیم تھا۔
امریکی حکام نے 29 سالہ مشتبہ حملہ آور کی تصویر بھی جاری کر دی ہے اور تصدیق کی ہے کہ وہ ماضی میں افغانستان میں سی آئی اے کے لیے کام کر چکا ہے۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف نے کہا کہ رحمان اللہ کو امریکا آنے کی اجازت اسی بنا پر دی گئی تھی۔
دوسری جانب نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے بعد امریکا نے افغان باشندوں کی امیگریشن درخواستوں کا عمل غیر معینہ مدت تک روک دیا ہے اور بائیڈن دور میں امریکا داخل ہونے والے ہر غیر ملکی کی دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم جاری کر دیا ہے۔