data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر) کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایگزیکٹو کمیٹی نے محمد جاوید بلوانی، ضیاء العار فین اور فیصل خلیل احمد کے بطور صدر، سینئر نائب صدر اور نائب صدر کے عہدوں سے استعفے باضابطہ طور پر منظور کر لیے۔ ان کے استعفے سیکریٹری جنرل کو موصول ہونے کے بعد اس مقصد کے لیے طلب کردہ ہنگامی اجلاس میں ایگزیکٹو کمیٹی نے منظوری دی۔ بعد ازاں، ایگزیکٹو کمیٹی کا ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں 2024–26 کی مدتِ کار کے بقیہ عرصے کے لیے نئے عہدیداران کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ اس اجلاس میں محمد ریحان حنیف کو متفقہ طور پر صدر، محمد رضا کو سینئر نائب صدر اور محمد عارف لاکھانی کو نائب صدر کراچی چیمبر منتخب کیا گیا۔بزنس مین گروپ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے سبکدوش ہونے والے عہدیداران، بالخصوص صدر محمد جاوید بلوانی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی متحرک قیادت، عزم اور شاندار کارکردگی نے مشکل حالات میں تجارت و صنعت کے مفادات کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ جاوید بلوانی کی قیادت میں کراچی چیمبر نے توانائی کے نرخوں، زائد ٹیکسیشن اور ڈاکیومنٹیشن کے چیلنجز سمیت متعدد اہم معاشی معاملات پر کاروباری و صنعتی برادری کی متحدہ آواز بلند کی۔ سبکدوش ٹیم نے کراچی بھر کے ٹریڈ باڈیز اور صنعتی ایسوسی ایشنز کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا، جس سے چیمبر کی حیثیت بطور نجی شعبے کی مرکزی آواز مزید مستحکم ہوئی۔زبیر موتی والا نے مزید کہا کہ کراچی چیمبر میں اپنے دور میںسبکدوش عہدیداران نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، ریگولیٹرز اور پالیسی سازوں کے ساتھ مضبوط رابطے برقرار رکھے اور ہمیشہ کاروباری برادری کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ انہوں نے گیس و بجلی کے زائد بلنگ، صنعتی انفراسٹرکچر اور کراچی میں امن و امان کے معاملات کو بھرپور محنت و عزم کے ساتھ اجاگر کیا۔ ان کی کاوشوں سے کے سی سی آئی کی ساکھ اور وقار میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ ادارہ حقیقی معنوں میں کراچی کی کاروباری برادری کی نمائندہ آواز کے طور پر ابھرا۔چیئرمین بی ایم جی زبیر موتی والا نے نو منتخب صدر محمد ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد رضا اور نائب صدر محمد عارف لا کھانی کو مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ سبکدوش ہونے والے عہدیداران کی طرح بھرپور جذبے، دیانت داری اور عزم کے ساتھ کراچی کی کاروباری و صنعتی برادری کی خدمت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ بزنس مین گروپ کراچی چیمبر کی قیادت کو رہنمائی اور تعاون فراہم کرتا رہے گا تاکہ تجارت و صنعت کے مفادات کا تحفظ اور کراچی و پاکستان کی معیشت کی ترقی و خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔

 

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جاوید بلوانی کراچی چیمبر

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • گورنر سندھ سے مبشر میر کی قیادت میں کراچی ایڈیٹرز کلب کے وفد کی ملاقات
  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • نفرت اور برادری کی سیاست ختم کر کے ترقی کو آگے بڑھانا ہوگا، وزیراعظم آزاد کشمیر
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے