اسٹیل ملز کے 411 ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کیلئے 1.366 ارب روپے جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کے 411 ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کیلئے 1.366 ارب روپے فراہم کر دیے۔
"ویلتھ پاکستان” کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ رقم گریجویٹی، پروویڈنٹ فنڈ اور لیو انکیشمنٹ کی مد میں ادا کی جائے گی۔
واجبات کی تقسیم اکتوبر کے دوران مکمل کئے جانے کی توقع ہے جس سے ریٹائرڈ ملازمین کو طویل عرصے سے منتظر مالی ریلیف ملے گا۔
دستاویزات کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز میں اب بھی 899 ملازمین موجود ہیں جن کی تنخواہیں حکومتی قرضوں سے ادا کی جا رہی ہیں تاکہ ادارے کے بنیادی امور جاری رہیں جبکہ اس کی تنظیم نو کا عمل بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔
اسی دوران اس قیمتی قومی ادارے کو محفوظ بنانے کے لئے انتظامیہ نے اینٹی تھیفٹ مہم میں تیزی لاتے ہوئے تانبے اور دیگر مواد کی چوری کے سلسلے میں 26 ایف آئی آرز درج کرائیں اور متعدد گرفتاریاں عمل میں لائیں۔
برآمد شدہ مواد نیلام کر کے حاصل شدہ آمدن ادارے کے مالی نقصانات کو کم کرنے میں استعمال کی جائے گی۔
اس کے علاوہ پاکستان اسٹیل ملز نے 20 ایکڑ قبضہ شدہ اراضی واگزار کرا لی ہے جبکہ مقامی انتظامیہ کے تعاون سے مزید 38 ایکڑ اراضی واگزار کرانے کا منصوبہ ہے۔
ان اراضیوں کو حکومتی منصوبے کے تحت دوبارہ صنعتی مقاصد کے لئے استعمال میں لایا جائے گا۔ اگرچہ اسٹیل مل کی پیداوار 2015 سے معطل ہے تاہم حکومت کی جانب سے مالی صفائی، اراضی کی بازیابی اور ملازمین کے واجبات کی ادائیگی پر توجہ مستقبل میں صنعتی بحالی کی بنیاد کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
موجودہ اصلاحاتی منصوبہ واجبات کی ادائیگی، قبضہ شدہ زمینوں کی بازیابی اور احتسابی نظام کے استحکام پر مرکوز ہے، کراچی میں 18,600 ایکڑ پر پھیلا ہوا یہ صنعتی ادارہ "گلشنِ حدید ہاؤسنگ پروجیکٹ” بھی شامل کرتا ہے جو 1986 سے مختلف مراحل میں ملازمین کے لئے تعمیر کیا گیا۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: واجبات کی ادائیگی ملازمین کے اسٹیل ملز
پڑھیں:
گروسیف نے پاکستان بزنس فورم کی کارپوریٹ ممبرشپ حاصل کرلی
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( کامرس ر پورٹر)گروسیف نے پاکستان بزنس فورم کی کارپوریٹ ممبرشپ حاصل کرلی،اقدام کا مقصد پاکستانی SMEs، برانڈز کو مضبوط کرنا اور ان کی ترقی کو یقینی بنانا ہے پیشہ ورانہ حفاظت اور صحت کے شعبے میں مطلوب معیارات کے حصول کی خدمات فراہم کرنے والے نامور ادارے گروسیف نے پاکستان بزنس فورم کی کارپوریٹ ممبرشپ حاصل کرلی ہے، اور یوں چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (SMEs) اور برانڈز کے لیے ایک بار پھر معاونت کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ مذکورہ ممبر شپ کے حصول کے لیے گروسیف نے فورم کی جانب سے متعین پیشہ ورانہ اور کارپوریٹ معیار حاصل کیا، جس کا تعلق پاکستانی اداروں میں مقامی اور بین الاقوامی حوالے سے تجارت، سرمایہ کاری، اور معاشی تعاون کو فروغ دینے سے ہے۔ اس کامیابی کے بعد ادارہ فورم کے خصوصی شراکت داروں میں شامل ہوچکا ہے۔تازہ کامیابی پر ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، سعد عبدالوہاب کا کہنا تھا کہ “گروسیف پاکستانی SMEs اور برانڈز کو برآمدات کے جملہ معیارات اور بین الاقوامی ریگولیٹری ضروریات کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔”ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے صنعتی اور پیداواری شعبوں میں کام کے معیار، صحت، حفاظت، اور ماحولیاتی معیارات کو بہتر بنانا ادارے کی اولین ترجیح ہے۔مقامی صنعتوں اور برانڈز کو ترویج دینے کے حوالے سے گروسیف کے مقاصد پاکستان بزنس فورم کے مشن سے ہم آہنگ ہیں، جس کے تحت صنعتی معیارات کو بہتر بنایا جارہا ہے۔ دونوں اداروں کے درمیان رواں برس 28 فروری کو طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے بعد سے گروسیف SMEs اور ابھرتے ہوئے برانڈز کے بزنس کرنے کے طریقہ کار کو بین الاقوامی معیارات کی سطح پر لانے کے لیے کوشاں ہے۔گزشتہ 9 ماہ کے دوران ادارے نے متعدد اداروں کو خاص طور پر ترتیب دیے گئے تربیتی پروگرامات، gap analysis، کنسلٹنسی، انٹرنیشنل سرٹفیکیشنز، آڈٹس، اور حفاظتی معائنوں کے ذریعے کمپلائنس کے حصول میں مدد دی ہے۔ ان اداروں میں بچہ پارٹی، ناسا کمیکلز، پیٹ کنِگ گلوبل، سروِس لانگ مارچ ٹائرز، فارماٹیک، ینگز فوڈ، Logiciel، گیٹرون انڈسٹریز، نوواٹیکس، انرجی این آٹومیشن، الہدیٰ انجینئرنگ، ڈیسکون، ای ایف یو لائف، Kompass، ہمدرد یونیورسٹی، Haseen Habib، Solution Concern، PERAC Research & Development، ایگری آٹو، Pakistan Mortgage Refinance Company اور پاکستان بیورجز لمیٹڈ شامل ہیں۔دریں اثناء، مقامی SMEs اور برانڈز کے فروغ کی کوششوں کے سلسلے میں گروسیف 3 اور 4 جنوری 2026 کو انتہائی اہمیت کے حامل “میرا برانڈ پاکستان” ایکسپو میں شرکت کے لیے تیار ہے، جہاں ادارے کی ایک ٹیم ہال 5 کے اسٹال B-88 پر جدید ترین تربیت، کنسلٹنسی اور کمپلائنس کی خدمات کا مظاہرہ اور معلومات فراہم کرے گی۔مذکورہ ایکسپو، جس میں اس سال 4 لاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے، کا شمار پاکستان کے اہم ترین ایونٹس میں ہوتا ہے، جس کا مقصد مختلف ملکی صنعتی شعبوں میں اعلی کارکردگی، جدت، اور کاریگری کو نمایاں کرنا اور پروان چڑھانا ہے۔