ریاستی دہشتگردی میں ملوث بھارت کا افغان طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
بھارت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے منافقت کی کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
بھارت اقوام متحدہ میں متعدد بار افغانستان کی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے کے الزامات عائد کرتا رہا لیکن بھارت نے ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی کے لیے انہی افغان طالبان حکومت سے اپنے مفادات کے لیے ہاتھ ملا لیا۔
افغان طالبان حکومت کے وزیر خارجہ کا دورہ بھارت اور پھر پاکستان پر حملہ اس بات کا قوی ثبوت ہے۔ پاکستان متعدد بار شواہد کے ساتھ یہ بات ثابت کر چکا ہے کہ بھارت فتنۃ الخوارج اور افغان طالبان کا سہولت کار ہے۔
مفاد پرست مودی کے افغان طالبان سے ہاتھ ملانے پر پورا بھارت اور اپوزیشن جماعت اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ بھارتی اپوزیشن نے مودی کی دوغلی پالیسی اور اخلاقی پستی پر سخت سوالات اٹھا دیئے۔
مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس حوالے سے کہا کہ طالبان کو دہشت گرد کہنے والے آج ان سے بات چیت کر رہے ہیں، میرا سوال ہے کہ مودی اپنے ہی شہریوں کے ساتھ دشمنی کیوں کر رہے ہو؟
محبوبہ مفتی نے کہا کہ آپ کے لوگ کل تک داڑھی والوں کی داڑھیاں نوچتے تھے، ٹوپیاں سر سے ہٹاتے تھے، آج بڑی پگڑی والے آئے ہیں اور آپ ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کے کھڑے ہیں۔
بھارت ایک طرف مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے تو دوسری طرف افغان طالبان حکومت سے مذاکرات کر رہا ہے، یہ گٹھ جوڑ مودی حکومت کی منافقانہ پالیسی کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔
افغان طالبان حکومت سے گٹھ جوڑ کے ذریعے بھارت پاکستان میں اپنی پراکسز کی سہولت کاری کرنا چاہتا ہے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغان طالبان حکومت کے لیے
پڑھیں:
افغانستان تباہی کے دہانے پر! UNDP کی ہولناک رپورٹ نے طالبان کی ناکامی بے نقاب کر دی
پاکستان کی سخت سرحدی پالیسیوں اور واپسی کے فیصلوں کے بعد افغانستان شدید معاشی اور انتظامی بحران کا شکار ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں 23 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کی وطن واپسی نے پہلے سے کمزور معیشت پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں غربت، بےروزگاری اور بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی نے حالات کو نہایت سنگین بنا دیا ہے، جبکہ افغان طالبان داخلی مسائل حل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔
خواتین کے لیے محدود رسائی، پابندیاں اور سکیورٹی خطرات نے انہیں سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ بنا دیا ہے۔
UNDP کا کہنا ہے کہ بدترین معاشی صورتحال، غیر مستحکم گورننس اور داخلی بدانتظامی نے ملک کو شدید عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی سرمایہ کاروں کو خصوصی رعایت دینے کے طالبان حکومت کے فیصلے نے افغانستان کے مستقبل اور خودمختاری سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق داخلی بحران، کمزور ادارے اور بڑھتی غربت طالبان حکومت کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان بن چکے ہیں، جب کہ ملک مسلسل اقتصادی اور سماجی زوال کی طرف بڑھ رہا ہے۔