اسلام آباد: پاکستان ویتنام بزنس فورم کا ترجیحی تجارتی معاہدے پر مذاکرات کے آغاز کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
اسلام آباد میں پاکستان ویتنام بزنس فورم کا انعقاد ہوا، جس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ویتنام کے وزیر صنعت و تجارت ایچ ای نگوین ہونگ ڈین نے شرکت کی اور خطاب کیا۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ویتنامی وفد اور بزنس کمیونٹی کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان دیرینہ خوشگوار تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ ٹیکسٹائل، لیدر، فارما، زراعت، فوڈ پروسیسنگ اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی طرف سے ویتنام کو ’فاسٹنگ بدھا‘ کے تاریخی مجسمہ کا تحفہ
جام کمال خان نے کہا کہ ترجیحی تجارتی معاہدہ (PTA) دونوں ممالک کے درمیان مارکیٹ تک رسائی اور تجارتی تنوع بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ طویل المدتی پارٹنرشپ قائم کریں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے پاس نوجوان افرادی قوت اور پرکشش کاروباری ماحول موجود ہے، جبکہ ویتنام کی صنعتی ترقی اور ویلیو ایڈیڈ مینوفیکچرنگ سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بزنس فورم پاک ویتنام معاشی تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فورم کے دوران ملاقاتیں اور بی ٹو بی سیشنز دوطرفہ تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔ فورم میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور ویتنامی وزارت صنعت و تجارت کی جانب سے پریزنٹیشنز دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: وزیر اعظم شہباز شریف کی ویتنام کے ہم منصب سے ملاقات، سیاحت و سرمایہ کار ی بڑھانے پر اتفاق
دونوں وزراء نے نجی شعبے کو مشترکہ منصوبوں میں فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی اور ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) پر مذاکرات کے آغاز کا باضابطہ اعلان کیا۔
ویتنامی وزیر نگوین ہونگ ڈین نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار اور باہمی مفید ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ فورم میں پاکستان اور ویتنام کے درجنوں کاروباری نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ دونوں ممالک کے وزراء نے تعلقات کو نئے معاشی دور میں داخل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیے: ویتنام کی مسلم ’سلطنت چمپا‘ کی داستانِ عروج و زوال
فورم کے موقع پر دونوں وزراء نے مذہبی اور ثقافتی سیاحت کے فروغ پر بھی زور دیا۔ ویتنامی وزیر نے بدھ مت ورثے کے مقامات کو روحانی سفر قرار دیا، جبکہ جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان گندھارا اور ٹیکسلا تہذیب کے بدھ مت ورثے کے فروغ کے لیے تیار ہے۔
جام کمال خان نے ویتنامی بزنس کمیونٹی کو نومبر میں کراچی میں ہونے والی فوڈ اینڈ ایگریکلچر ایکسپو میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بزنس تجارت معاہدہ ویتنام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: معاہدہ ویتنام جام کمال خان نے دونوں ممالک کے اور ویتنام ویتنام کے نے کہا کہ
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔