پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ نے اپنے موجودہ مالکان کے ساتھ آئندہ دس برس کے لیے فرنچائز معاہدے کی تجدید کر دی جس کے بعد ٹیم اگلی دہائی تک لیگ کا حصہ رہے گی۔

پی ایس ایل حکام کے مطابق معاہدے کی تجدید ای اینڈ وائی مینا کی جانب سے مقرر کردہ نئی مارکیٹ ویلیو کے مطابق کی گئی ہے۔ پی ایس ایل اگلے سال اپنے 11ویں ایڈیشن سے 8 ٹیموں کی لیگ بننے جا رہی ہے جبکہ موجودہ پانچ ٹیمیں اپنے فرنچائز معاہدے پہلے ہی تجدید کر چکی ہیں۔

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے معاہدے کی تجدید پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے کھیل میں ہمیشہ اعلیٰ معیار برقرار رکھا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ پی ایس ایل پر ملک و بیرونِ ملک اعتماد کا بڑا ثبوت ہے۔

سی ای او پی ایس ایل سلمان نصیر نے بھی اسلام آباد یونائیٹڈ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ فرنچائز نے لیگ کی شناخت بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 10 سال کی شراکت نہ صرف دونوں اداروں کے لیے نئی کامیابیوں کا آغاز ہو گی بلکہ پی ایس ایل کی ترقی کے سفر کو بھی مزید تقویت ملے گی۔

سلمان نصیر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد یونائیٹڈ پی ایس ایل کی پہلی چیمپئن اور مستقل بہترین کارکردگی دکھانے والی ٹیم ہے جس نے لیگ کی قدر اور مقبولیت میں اضافہ کیا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسلام آباد یونائیٹڈ معاہدے کی تجدید پی ایس ایل

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے