اسلام آباد میں 40واں قومی مقابلہ حفظ و قرأت کل سے شروع ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیرِ اہتمام 40واں قومی مقابلۂ حفظ و قرأت بدھ کے روز اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔
وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق، ملک بھر سے ضلعی اور صوبائی سطح کے مقابلوں میں منتخب حفاظ و قراء قومی سطح کے اس مقابلے میں شریک ہوں گے۔
مزید پڑھیں: وزارتِ مذہبی امور نے عراق میں مقدس مقامات کی زیارات کے لیے نئی ہدایات جاری کردیں
یہ 2 روزہ مقابلہ ہوگا، جس کے فاتحین کا اعلان جمعرات کو کیا جائے گا۔ ترجمان نے بتایا کہ چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، اسلام آباد اور مسلح افواج کے اداروں سے منتخب حفاظ و قراء اس مقابلے میں حصہ لیں گے۔
ترجمان کے مطابق، حافظہ اور قاریہ خواتین و بچیوں کے لیے 4 الگ کیٹیگریز مختص کی گئی ہیں تاکہ خواتین کی شرکت کو بھی فروغ دیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: وزارت مذہبی امور نے مصدقہ عمرہ کمپنیوں کی فہرست جاری کر دی
قومی مقابلہ حفظ و قرأت کے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے شرکاء کو نقد انعامات دیے جائیں گے، جبکہ انہیں نومبر میں منعقد ہونے والے پاکستان کے پہلے عالمی مقابلۂ قرأت میں ملک کی نمائندگی کا موقع بھی فراہم کیا جائے گا۔
ترجمانِ وزارتِ مذہبی امور نے کہا کہ قومی سطح کے یہ مقابلے قرآنی علوم سے وابستہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی صلاحیتوں کے فروغ کا بہترین ذریعہ ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
40واں قومی مقابلۂ حفظ و قرأت وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 40واں قومی مقابلہ حفظ و قرأت وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی قومی مقابلہ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔