اوور 40 عالمی کپ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کے لیگ مرحلے کے اختتام پر سیمی فائنل لائن اپ مکمل ہوگئی ہے۔ گروپ اے سے پاکستان اور جنوبی افریقا جبکہ گروپ بی سے آسٹریلیا اور امریکا نے فائنل فور میں رسائی حاصل کرلی۔ سیمی فائنل مقابلے ہفتہ کو نیشنل بینک اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے، جہاں آسٹریلیا کا مقابلہ جنوبی افریقا سے اور پاکستان کا ٹکراؤ امریکا سے ہوگا۔

جمعرات کو کھیلے گئے پانچویں اور آخری لیگ راؤنڈ میں پاکستان نے اپنی ناقابل شکست مہم کو برقرار رکھتے ہوئے کینیڈا کو 85 رنز سے ہرادیا۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 5 وکٹوں پر 202 رنز بنائے، کپتانی کے فرائض انجام دینے والے فواد عالم نے 38 گیندوں پر 66 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر ٹورنامنٹ میں مسلسل چوتھی نصف سنچری مکمل کی، جبکہ طارق محمود نے 39 گیندوں پر 44 رنز بنائے۔

ہدف کے تعاقب میں کینیڈا کی پوری ٹیم 19ویں اوور میں 117 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ محمد سلیمان نے 3 جبکہ ذوالفقار بابر اور حسن نثار نے 2،2 کھلاڑی آؤٹ کیے۔ فواد عالم میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

دن کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے زمبابوے کو 9 وکٹوں کے واضح فرق سے شکست دی۔ زمبابوے نے 8 وکٹوں پر 145 رنز بنائے، جس کا آسٹریلیا نے ایک وکٹ کے نقصان پر 17ویں اوور میں تعاقب کرلیا۔ جیف ہینمگ 57 گیندوں پر 85 رنز بنا کر نمایاں رہے۔

این بی پی اسپورٹس کمپلیکس میں امریکا نے ریسٹ آف دی ورلڈ کو 5 وکٹوں سے مات دے کر سیمی فائنل میں جگہ پکی کی۔ 147 رنز کا ہدف امریکا نے 5 وکٹوں پر حاصل کیا۔ انوار احمد نے 46 رنز بنانے کے ساتھ 2 وکٹیں بھی حاصل کیں جبکہ عبدالقادر نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

اسی گراؤنڈ میں ہانگ کانگ نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 7 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ ویسٹ انڈیز نے لیری باب کی 64 رنز کی اننگز کی بدولت 198 رنز بنائے۔ تاہم، ہانگ کانگ نے مونر ڈر کی 54 گیندوں پر 13 چوکوں اور 4 چھکوں کی مدد سے ناقابلِ شکست 100 رنز کی بدولت ہدف ایک گیند پہلے حاصل کرلیا، نجیب نے بھی 62 رنز کی اننگز کھیلی۔

معین خان اکیڈمی میں ریسٹ آف دی گلف نے سری لنکا کو 101 رنز سے شکست دی۔ فاتح ٹیم نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 255 رنز اسکور کیے، جن میں محمد عمران کے 80 اور ریحان خان کے 68 رنز شامل تھے۔ علی عمران نے 3 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔ جواب میں سری لنکا 19ویں اوور میں 154 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔

اسی مقام پر کھیلے گئے دوسرے میچ میں جنوبی افریقا نے متحدہ عرب امارات کو 17 رنز سے ہرایا۔ جنوبی افریقا نے 7 وکٹوں پر 151 رنز بنائے، جواب میں یو اے ای 7 وکٹوں پر 134 رنز ہی بنا سکی۔ رین ہارڈ نے 44 اور محمد سہیل نے 43 رنز اسکور کیے جبکہ پیٹ بوتھا نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جنوبی افریقا سیمی فائنل گیندوں پر وکٹوں پر حاصل کی رنز کی

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار