پاک افغان کشیدگی پر بھارت کا فیک پروپیگنڈا بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران بھارت کا گودی میڈیا ایک بار پھر جھوٹے پروپیگنڈے میں سرگرم ہوگیا۔
بھارتی میڈیا نے اے آئی (Artificial Intelligence) کے ذریعے جعلی ویڈیوز اور تصاویر بنا کر پاکستان کے خلاف منفی مہم شروع کر دی۔
بھارتی چینلز نے شمالی وزیرستان کے شہری عادل داوڑ کو فوجی افسر ظاہر کرتے ہوئے جھوٹا دعویٰ کیا کہ وہ پاک افغان سرحد پر کارروائی کے دوران شہید ہوگئے۔
تاہم عادل داوڑ نے ویڈیو پیغام جاری کر کے بھارتی پروپیگنڈے کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا۔ ان کا کہنا تھا، “میرا نام عادل داوڑ ہے، میں شمالی وزیرستان سے سیاسی اور سماجی کارکن ہوں۔ بھارتی میڈیا نے میری مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تصویر چلا کر مجھے فوجی میجر ظاہر کیا ہے، حالانکہ میں عام شہری ہوں۔”
عادل داوڑ نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے جعلی تصاویر کے ذریعے میرے خلاف جھوٹا بیانیہ پھیلایا، جو صحافت کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت کا گودی میڈیا پہلے بھی پلوامہ اور پہلگام جیسے واقعات میں جھوٹی معلومات اور فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے پروپیگنڈا کرتا رہا ہے تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :