data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان اوورسیز فورم سعودی عرب کی جانب سے ایک اہم پریس بریفنگ کا اہتمام کیا گیا۔ جس میںبتایا گیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی امداد سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں کس طرح بڑے پیمانے پرریلیف سرگرمیاں جاری ہیں۔ ضلع بھاولنگر، مظفرگڑھ اور دیگر متاثرہ تحصیلوں میں کھانے پینے کی اشیاء، خشک راشن، مویشیوں کا چارہ اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی تقسیم کی گئی ہیں۔ صرف ضلع بھاولنگر کی تحصیل منچن آباد میں 555 سے زائد خاندانوں میں 20 کلو راشن بیگز تقسیم کیے گئے۔ مزید بتایا گیا کہ مظفرگڑھ اور بھاولپور کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی ہزاروں خاندانوں کو امداد فراہم کی گئی ہے۔ تقریباً 800 بوری چوکر اور 84 ہزار 840 کلو جانوروں کا چارہ تقسیم کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ درجنوں خاندانوں میں خشک راشن بیگز، نقد امداد اور دیگر ضروری اشیاء بھی پہنچائی گئیں۔ مظہر اقبال انجم کا کہنا تھا کہ ہماری تنظیم غیر سیاسی ہے اور ہم بلا تفریق لوگوں کی مدد کرتے ہیں ہمارے تنظیم کا مشن عام عوام جو کے کسی بھی مشکل کا شکار ہے انکی مدد کرنا ہے صدر ویسٹرن ریجن سعودی عرب فدا حسین کھوکھر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اوورسیز فورم صرف ریلیف سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ ہم ملک میں پائیدار ترقی کے منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “اب تک ہم 400 سے زائد مستحق افراد کو بلاسود قرضہ فراہم کرکے ان کے اپنے کاروبار شروع کرنے میں مدد کر چکے ہیں۔ اس اقدام سے کئی خاندان معاشی طور پر مستحکم ہوئے ہیں۔ چیف آرگنائزر سعودی عرب ذکا اللہ پنو اور دیگر عہدیداران نے کہا کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ہمیشہ اپنے ملک کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی تک یہ امدادی سلسلہ جاری رہے گا اور اوورسیز کمیونٹی اپنے ملک کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی۔ پریس بریفنگ میں صدر ویسٹرن ریجن سعودی عرب فدا حسین کھوکھر، چیف آرگنائزر سعودی عرب ذکا اللہ پنو ، گلزار منظور مانگٹ میڈیا کارڈینیٹر اور دیگر ممبران نے شرکت کی۔ پاکستان اوورسیز فورم کے بورڈ ممبر مظہر اقبال انجم نے میزبانی کے فرائض انجام دیے۔‘‘

 

مسرت خلیل گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اوورسیز فورم اور دیگر

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم