انہوں نے کہا کہ مجھے ایک کیس کا پتہ چلا ہے جس میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر نے اتنے جعلی مقابلے کئے کہ وہ ترقی کرتے کرتے ڈی آئی جی بن گیا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں معروف کشمیری پنڈت ڈاکٹر سندیپ ماوا نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی فورسز ترقیاں اور انعامات حاصل کرنے کے لئے جعلی مقابلوں میں بے گناہ لوگوں کو قتل کرتی رہی ہیں جن کو بہت جلد بے نقاب کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر سندیپ ماوا کو سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ کل رات میں کچھ فائلیں پڑھ رہا تھا اور مجھے پتہ لگا ہے کہ جموں و کشمیر میں بہت سے جعلی مقابلے ہوئے ہیں کیونکہ حکومت نے پالیسی بنائی تھی کہ بھارتی فورسز کے جو اہلکار عسکریت پسندوں کو مار دیں گے ان کو ترقی ملے گی جس کا فورسز اہلکاروں نے غلط فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ایک کیس کا پتہ چلا ہے جس میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر نے اتنے جعلی مقابلے کئے کہ وہ ترقی کرتے کرتے ڈی آئی جی بن گیا۔ اس لئے میں کشمیری عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ آنے والے وقت میں جس جس نے صرف ترقی اور انعامات حاصل کرنے کے لئے بے گناہ لوگوں کو جن کا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہیں تھا، جعلی مقابلوں میں قتل کر دیا، ان سب کو بے نقاب کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر کچھ افسروں کو جانتا ہوں جو ان جعلی مقابلوں میں ملوث ہیں۔ سندیپ ماوا نے کہا کہ بے گناہ کشمیریوں کے قتل میں ملوث اہلکاروں کو سزا دینے کی بات کرنے پر مجھ پر چھ بار حملے ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان انکشافات کو محض ایک چھوٹا نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قابض بھارتی فورسز نے اس سے کہیں زیادہ جعلی مقابلے کئے ہیں۔ تاہم ڈاکٹر سندیپ نے جان بوجھ کر قتل عام کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج کی طرف سے کیے گئے جعلی مقابلوں کا ذکر کرنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جعلی مقابلوں کو ایک منظم پالیسی کے طور پر اختیار کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو علاقے میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جعلی مقابلوں میں بھارتی فورسز جعلی مقابلے نے کہا کہ بے گناہ

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم