جعلی ویب پورٹل بنانے والی 2 فلور ملز کو کلین چٹ دلوانے کیلیے دباؤ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
لاہور:
محکمہ خوراک پنجاب کا جعلی ویب پورٹل بنانے والی فلور ملز میں سے 2 کو’’ کلین چٹ ‘‘ دلوانے کیلئے سرکاری حکام پرشدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز محکمہ خوراک نے جعلی پرمٹ اسکینڈل میں ملوث 3فلور ملز کو شوکاز نوٹس جاری کیا مگر نامعلوم وجوہات کی وجہ سے 2 فلور ملز کو شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا جس وجہ سے فلورملنگ انڈسٹری میں یہ تاثر پھیل رہا کہ ایک اہم رہنما کے عزیز اور اس کے ساتھی کو بچالیا گیا اور دوسری فلور ملز کو قربان کردیا گیا۔
3 روز قبل ڈی جی فوڈ پنجاب امجد حفیظ نے محکمہ خوراک کا جعلی ویب پورٹل بنانے والا گروپ بے نقاب کیا گیا تھا جس میں راولپنڈی، ٹیکسلا واہ کینٹ سمیت دیگر علاقوں کی بعض فلور ملز کے نام سامنے آئے تھے۔
جن میں حیزمک ، مستقیم ، شاہ تاج ، نیو سیٹھی ، سٹی مل اور سلطان فلور ملز شامل ہیں ، ڈی جی فوڈ نے ان ملز کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ، تھانہ صدر میانوالی میں درج مقدمہ میں حیزمک فلورمل واہ کینٹ کا نام درج کرنے کی بجائے حضرو مل واہ کینٹ لکھوایا گیا۔
جس پر اگلے روز ڈی جی نے سخت نوٹس لیا اور ترمیمی استغاثہ تیار کرنے کی ہدایت کی جبکہ ڈی ایف ڈی میانوالی کے خلاف چارج شیٹ تیاری کا بھی حکم بھی دیا جس پر گزشتہ روز ایف آئی آر میں ترمیم کے بعد حیزمک فلورمل کا نام شامل کر لیا گیا۔
مگر حیران کن طور پر گزشتہ روز سلطان فلور مل ،سٹی فلور ملز ، مستقیم مل کو ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر راولپنڈی کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا مگر نیو سیٹھی مل اور حیزمک مل کو شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شوکاز نوٹس جاری فلور ملز کو کیا گیا فلور مل
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔