زیادہ تر پاکستانی مرد بے وفا ہیں، شادی غیر ملکی سے کروں گی، سعیدہ امتیاز
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
اداکارہ سعیدہ امتیاز کے خیال میں زیادہ تر پاکستانی مرد بے وفا ہوتے ہیں، اسی لیے وہ سمجھتی ہیں کہ ان کا شریکِ حیات پاکستانی نہیں بلکہ غیر ملکی ہوگا۔
سعیدہ امتیاز نے حال ہی میں پروگرام ’زبردست وِد وصی شاہ‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے محبت، شادی اور تعلقات کے بارے میں کھل کر بات کی۔
گفتگو کے دوران سعیدہ امتیاز نے کہا کہ ان کے نزدیک محبت ایک احساس کا نام ہے، چاہے وہ کسی بھی رشتے میں ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ احساس سے ہی پیار پروان چڑھتا ہے، اکثر مرد اپنی بیوی سے محبت کے دعوے کرتے ہیں مگر باہر جا کر دوسری خواتین سے بھی یہی الفاظ دہراتے ہیں، لیکن اگر انہیں اپنی بیوی کا احساس ہو تو وہ کبھی ایسا نہیں کریں گے۔
سعیدہ امتیاز کے مطابق جب کسی رشتے میں احساس موجود ہو تو انسان کا ضمیر اسے غلط راستے پر جانے سے روک دیتا ہے، اس لیے کسی بھی رشتے کی بنیاد احساس پر ہی ہونی چاہیے۔
شادی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے سعیدہ امتیاز نے کہا کہ انہیں ارینج میرج ڈراؤنی لگتی ہے، ان کے خیال میں شادی سے پہلے میاں بیوی میں مطابقت ہونی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی شادی محبت اور ارینج دونوں کا امتزاج ہو، یعنی وہ خود پسند کریں گی لیکن معاملات گھروالوں کی مرضی سے ہی طے ہوں گے۔
سعیدہ امتیاز نے مزید کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ان کا شریکِ حیات پاکستانی نہیں ہوگا، کیونکہ ان کے ذہن میں کئی سال پہلے سے یہ خیال آچکا ہے کہ وہ پاکستانی مرد سے شادی نہیں کریں گی۔
ان کے مطابق پاکستان کے زیادہ تر مرد بے وفا ہوتے ہیں، جب کہ بیرونِ ملک ایسے معاملات بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں، وہاں ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی۔
انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بعض معاملات میں خواتین بھی قصوروار ہوتی ہیں۔
سعیدہ امتیاز نے کہا کہ انہوں نے ایسی کئی کہانیاں سنی ہیں جن میں ایک بہن نے دوسری بہن کا گھر برباد کیا، اس لیے لڑکیوں کو شادی شدہ مردوں کے بجائے کنوارے لڑکوں سے تعلقات قائم کرنے چاہئیں تاکہ کسی کا گھر نہ خراب ہو۔
اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ جب انہیں شادی شدہ مرد شادی کے پیغام بھیجتے ہیں تو انہیں بہت غصہ آتا ہے، وہ ایسے مردوں کو فوراً جواب دیتی ہیں کہ آپ کی بیگم کو اسکرین شاٹ بھیج دوں گی، جس کے بعد وہ مرد دوبارہ رابطہ نہیں کرتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سعیدہ امتیاز نے کہا کہ ان انہوں نے
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر