ایئرپورٹس پر جہازوں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
سال 2025 میں ایئرپورٹس پر جہازوں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا۔
قومی ایئرلائن کی پروازوں کو رواں سال جنوری سے ستمبر تک 90 برڈ اسٹرائکس کا سامنا کرنا پڑا، قومی ایئرلائن کیساتھ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 83 برڈ اسٹرائکس رپورٹ ہوئیں۔
رواں سال ستمبر میں ہی 26 برڈ اسٹرائکس رپورٹ ہوئیں جو ایک ماہ میں ہونے والا تشویش ناک اضافہ ہے۔ لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹس پر پی آئی اے کو سب سے زیادہ برڈ اسٹرائکس ریکارڈ ہوئیں۔
قومی ائیرلائن کو رواں سال کراچی میں 9 ، لاہور میں 16 اور اسلام آباد میں 15 برڈ اسٹرائیک کے واقعات پیش آئے، برڈ اسٹرائکس کے باعث 8 طیاروں کو نقصان پہنچا، 82 معمولی نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
لینڈنگ اور اپروچ کے دوران سب سے زیادہ برڈ اسٹرائکس ہوئیں، لینڈنگ میں 21 جبکہ اپروچ میں 14 واقعات پیش آئے۔
ایئر لائن حکام کے مطابق اے 320 طیارے کے ساتھ سب سے زیادہ 68 برڈ اسٹرائکس کے واقعات ہوئے، برڈ اسٹرائکس کے بڑھتے واقعات نے نجی ایئرلائنز کی پروازوں کے شیڈول پر اثر ڈالا۔ برڈ اسٹرائکس کے باعث کئی نجی پروازوں کو تاخیر اور فنی معائنے کا سامنا کرنا پڑا۔
برڈ اسٹرائکس میں اضافہ ائیرپورٹس کے اطراف صفائی اور فضلہ کنٹرول کے نظام کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ پی آئی اے کے سیفٹی ڈپارٹمنٹ نے ائیرپورٹس پر برڈ کنٹرول سسٹم مزید مؤثر بنانے کی سفارش کر دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی ایئرلائنز کے برڈ اسٹرائکس کے واقعات پی آئی اے سے دو گنا زیادہ رپورٹ ہوئے جن کی مجموعی تعداد 180 تک جا پہنچی ہے۔
پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کا کہنا ہے کہ پرندوں کے تدارک اور فضائی سلامتی کے حوالے سے عالمی معیار کے مطابق اقدامات کیے جارہے ہیں، برڈ اسٹرائکس ایک عالمی نوعیت کا چیلنج ہے، جس کے اثرات موسم، شہری آبادی کے پھیلاؤ اور ماحولیاتی عوامل سے بھی منسلک ہیں۔
پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی نے کہا کہ وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ہوائی اڈوں کے اطراف صفائی کے مؤثر انتظامات کرکے پرندوں کے خطرات میں کمی لائی جا سکے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: برڈ اسٹرائکس کے کے واقعات
پڑھیں:
ایف آئی اے نے ائیرپورٹس پر مسافروں کی زبردستی آف لوڈنگ کی افواہوں کی تردید کر دی
اسلام آباد (صغیر چوہدری) – ایف آئی اے نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کی، جن میں کہا جا رہا تھا کہ ائیرپورٹس سے مسافروں کو زبردستی آف لوڈ کیا جا رہا ہے۔
ایف آئی اے کے ترجمان نے شہریوں کو اہم پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر سوشل میڈیا پر من گھڑت اور گمراہ کن معلومات شیئر کر رہے ہیں، جن کا مقصد ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور عوام میں غیر ضروری تشویش پیدا کرنا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ ایف آئی اے کسی بھی مسافر کو آف لوڈ نہیں کرتا، بشرطیکہ اس کی سفری دستاویزات مکمل ہوں اور سفر کا مقصد جائز ہو۔ مسافروں کی حفاظت ادارے کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ غیر قانونی ایجنٹس پر بھروسہ نہ کریں اور ہمیشہ مکمل اور تصدیق شدہ دستاویزات کے ساتھ سفر کریں۔ کسی بھی رہنمائی یا شکایت کے لیے مسافر ائیرپورٹ پر موجود ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن یا ایف آئی اے ہیلپ لائن 1991 سے رابطہ کر سکتے ہیں۔