عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی فارماسیوٹیکل کمپنیوں میں بننے والے بچوں کے کھانسی کے شربت زہریلے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے انتباہ جاری کیا ہے کہ بھارتی کھانسی کے شربت میں زہریلے اور خطرناک کیمیکل پائے گئے ہیں۔

بیان میں تمام ممالک کو ہدایت کی ہے کہ اگر یہ ادویات کہیں دستیاب ہوں تو فوری طور پر ضبط کر کے رپورٹ کیے جائیں۔

جن تین بھارتی کھانسی کے سیرپ میں زہریلے کیمیکل پائے گئے ہیں ان میں سریسان فارما کی کولڈرف، ریڈنیکس فارما کی ریسپی فریش ٹی آر اور شیپ فارما کی ری لائف شامل ہیں۔

تحقیقات میں ان تینوں سیرپس میں Diethylene Glycol نامی زہریلا کیمیکل پایا گیا جو گردوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے اور بچوں کے لیے جان لیوا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ شربت بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع چھندواڑہ میں کم عمر بچوں کو دیے گئے، جن کے استعمال کے بعد 20 سے زائد اموات کے واقعات سامنے آئے۔

لیبارٹری میں ان سیرپس کی جانچ پڑتال کے دوران ان میں موجود زہریلے مادے ڈائی ایتھلین گلائیکول کی مقدار اجازت یافتہ حد سے 500 گنا زیادہ پائی گئی۔

جس کے بعد بھارتی محکمہ صحت اور خاندانی بہبود نے کولڈ ریف نامی کھانسی کی دوا بنانے والی سریسان فارماسیوٹیکلز کا لائسنس منسوخ کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مذکورہ کمپنی کا لائسنس منسوخ کرنے کے ساتھ تمل ناڈو میں اس کمپنی کے مینوفیکچرنگ پلانٹ کو بھی سیل کر دیا گیا۔

ادھر بھارتی اداروں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کھانسی کے یہ تینوں سیرپس بیرونِ ملک برآمد نہیں کیے گئے اور نہ ہی غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک اسمگلنگ کے شواہد ملے ہیں۔

امریکی FDA نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ مصنوعات امریکا نہیں پہنچیں۔

 .

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کھانسی کے

پڑھیں:

پیدائش، اموات، نکاح، طلاق کی رجسٹریشن آن لائن ہو گی، وزیرِ اعلیٰ سندھ نے افتتاح کر دیا

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ—فائل فوٹو

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بدھ کے روز سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم (سی آر ایم ایس) موبائل ایپلیکیشن کا افتتاح کر دیا۔

اس ایپلیکشن کے ذریعے پیدائش، اموات، نکاح اور طلاق کی رجسٹریشن کی خدمات کو ایک آسان، کاغذ سے پاک اور ٹیکنالوجی پر مبنی پلیٹ فارم کے ذریعے شہریوں کی دہلیز تک پہنچایا جا سکے گا۔

وسیع تر الیکٹرانک سول رجسٹریشن اینڈ وائٹل اسٹیٹیسٹکس (ای سی آر وی ایس) سسٹم کی منظوری 471.254 ملین روپے کے بجٹ کے ساتھ دی گئی تھی، یہ سسٹم 30 اضلاع اور 769 صحت کی سہولتوں کا احاطہ کرے گا تاکہ سرکاری اور نجی اسپتالوں میں 85 فیصد پیدائشوں کی ڈیجیٹل رجسٹریشن کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حفاظتی ٹیکوں، بیماریوں کی نگرانی اور مریض کی شناخت کے انتظام کو بھی سی آر ایم ایس کے ساتھ منسلک کیا جائے گا، یہ صوبائی حکومت کی ڈیجیٹل سندھ کی جانب جاری منتقلی میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت شفافیت، کارکردگی اور عوامی سہولت بڑھانے کے لیے گورننس کے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ آغاز کاغذی نظام سے ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی کی طرف ایک اہم قدم ہے، سی آر ایم ایس موبائل ایپ شفافیت، کارکردگی، رسائی اور عوامی اعتماد کو فروغ دیتی ہے اور سندھ کی ڈیجیٹل گورننس میں قیادت کو اجاگر کرتی ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کابینہ کے تمام اجلاسوں کی کارروائی پہلے ہی مکمل طور پر ڈیجیٹلائز ہو چکی ہے، تاہم پیدائش اور اموات کی رجسٹریشن کئی سالوں سے کم رہی ہے، بنیادی وجہ یہ تھی کہ کم آمدنی والے خاندان نادرا کی رجسٹریشن فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومت پیدائش اور اموات کی رجسٹریشن کے لیے نادرا کی تمام فیس ادا کرے گی، نادرا نے اس اصلاحات میں صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے۔

سی آر ایم ایس موبائل ایپ جو نادرا کے تعاون سے تیار کی گئی ہے، طویل قطاروں، کاغذی کارروائی اور تاخیر کو ختم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ پیدائش کی رجسٹریشن کو پیدائش کے فوراً بعد پورے سندھ میں لازمی قرار دیا جائے گا، 5 سال بعد ہر بچے کی اسکول کی منصوبہ بندی اسی ڈیٹا کی بنیاد پر ہو گی۔

وزیرِ اعلیٰ نے صحت کے شعبے کے لیے نئے نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا، خصوصاً حفاظتی ٹیکوں، بیماریوں کی نگرانی اور مریض کی شناخت کے انتظام میں مربوط ڈیٹا الیکٹرانک امیونائزیشن رجسٹری جیسے پروگراموں کی معاونت کرے گا اور تھیلیسیمیا جیسی بیماریوں کے لیے ہدفی اقدامات کو ممکن بنائے گا۔

وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ جامع الیکٹرانک سول رجسٹریشن اینڈ وائٹل اسٹیٹیسٹکس (ای-سی آر وی ایس) سسٹم کی 471.254 ملین روپے کے بجٹ کے ساتھ دی گئی تھی، 30 اضلاع اور 769 صحت کی سہولتوں کا احاطہ کرے گا تاکہ سرکاری اور نجی اسپتالوں میں 85 فیصد پیدائشوں کی ڈیجیٹل رجسٹریشن کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت ڈیجیٹل اصلاحات کو توسیع دیتے ہوئے ڈومیسائل کے اجراء، سماجی تحفظ کے نظام، صحت کے ریکارڈز، لائسنسنگ اورای پیمنٹس جیسی خدمات کو بھی ایک یکجا اور محفوظ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے تحت لائے گی، سندھ حکومت عوامی سہولت کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل اصلاحات کے لیے پُرعزم ہے اور نادرا کے چیئرمین اور ان کی ٹیم کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے وزیرِ اعلیٰ کو صحت کی ان سہولتوں کے بارے میں آگاہ کیا جہاں سرکاری اور نجی اسپتالوں میں 85 فیصد پیدائشوں کی ڈیجیٹل رجسٹریشن ایپ کے ذریعے کی جائے گی۔

چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کا ڈیجیٹل سندھ پروگرام شفافیت اور درستگی دونوں کو یقینی بنائے گا۔

ڈائریکٹر جنرل نادرا عامر علی خان نے وزیرِ اعلیٰ کو ایپ اور اس کی خصوصیات پر جامع بریفنگ دی۔

تقریب میں لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور نادرا کے درمیان سی آر ایم ایس موبائل ایپلیکیشن کے اجراء کےلیے کے لیے ایک باضابطہ اضافی معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیجیٹل تشدد، ایک انتباہ
  • رہبر انقلاب اسلامی کا انتباہ
  • پیدائش، اموات، نکاح، طلاق کی رجسٹریشن آن لائن ہو گی، وزیرِ اعلیٰ سندھ نے افتتاح کر دیا
  • آسان قرضہ سکیم: درخواستیں ہزاروں، مگر منظوری کی رفتار سست
  • حیدرآباد: سوہنی دھرتی یوتھ کونسل کی جانب سے بچوں کے عالمی دن کے موقع پر مہمان خصوصی شفقت سولنگی ودیگر کیک کاٹ رہے ہیں
  • بھارتی گیڈر بھبکی؛ سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے؛ فوج میں بھرتی کیلیے پُرعزم
  • ملکی شمسی توانائی کی صلاحیت 2026ء تک بجلی کے مجموعی نظام کے 20 فیصد تک پہنچنے کی توقع: عالمی تحقیقی ادارہ
  • کراچی سرکلر ریلوے اور ہائی اسپیڈ ٹرین کیلیے عالمی بینک سے تعاون کی اپیل
  • سابق رکن اسمبلی نے اسلام قبول کر کے نکاح کرنیوالی بھارتی خاتون کی واپسی کیلیے درخواست دائر کر دی
  • فاطمہ نسیم پاکستان کیلیے سب سے زیادہ گنیز ورلڈ ریکارڈ بنانے والی خاتون کھلاڑی بن گئیں