حکومت پاکستان، اے ایف ڈی اور عالمی ادارہ صحت کا ملک سے پولیو کے خاتمے کے عزم کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
تصویر سوشل میڈیا۔
فرانس کی ترقیاتی ایجنسی (اے ایف ڈی) کے بھرپور تعاون سے پاکستان اور عالمی ادارۂ صحت نے پولیو کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
فرانسیسی سفیر نکولا گالے، عالمی ادارۂ صحت کے نمائندہ ڈاکٹر لُو اور وزیر مملکت عائشہ رضا نے آج اسلام آباد میں ایک ویکسینیشن سینٹر کا دورہ کیا، جہاں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔
یہ مہم ملک بھر میں جاری قومی انسدادِ پولیو مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس موقع پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی اشتراک اور عوامی تعاون سے پولیو کے خاتمے کا ہدف جلد حاصل کیا جائے گا۔ فرانسیسی سفیر نکولا گانے نے کہا ہم سب مل کر اس عالمی صحت کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتے ہیں۔
پولیو کے خلاف جاری یہ مہم پاکستان پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو، عالمی ادارۂ صحت کے مشرقی بحیرۂ روم کے علاقائی دفتر، اے ایف ڈی اور ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن پاکستان کے اشتراک سے چلائی جا رہی ہے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پولیو کے
پڑھیں:
افغان سرزمین سے تاجکستان میں چینی شہریوں پر حملہ، پاکستان کی طرف سے سخت تشویش کا اظہار
پاکستانی دفتر خارجہ نے تاجکستان میں افغانستان کی سرحد کے قریب چینی شہریوں پر ہونے والے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے چین اور تاجکستان کی حکومتوں اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق پاکستان نے اس بزدلانہ کارروائی کو انتہائی قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہتھیاروں سے لیس ڈرون کے استعمال نے افغانستان سے جنم لینے والے خطرے کی سنجیدگی اور حملہ آوروں کی ڈھٹائی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان سے تاجکستان پر ڈرون حملہ اور فائرنگ، 3 چینی باشندے ہلاک
ترجمان نے کہا کہ پاکستان، جو بارہا افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کا شکار ہوا ہے، اپنے چینی دوستوں اور تاجک شراکت داروں کے دکھ اور تکلیف کو بخوبی سمجھتا ہے اور ان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان مستقل طور پر اس مؤقف پر قائم ہے کہ افغان سرزمین کو پڑوسی ممالک یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ دہشتگرد عناصر کی بارہا افغان سرزمین سے کارروائیاں اور افغان طالبان کی سرپرستی میں ان کی موجودگی پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے۔
یہ بھی پڑھیے افغان طالبان کی پشت پناہی سے ٹی ٹی پی خطے کے لیے سنگین خطرہ، اقوام متحدہ کی کمیٹی کا انتباہ
پاکستان نے زور دیا کہ افغان سرزمین سے کام کرنے والے دہشتگرد گروہوں کے سہولت کاروں، مالی معاونین اور منصوبہ سازوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی ہی اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے۔
پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ چین، تاجکستان اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان طالبان رجیم تاجکستان چینی شہری