خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کی سوات میں پولیو ٹیم پر حملے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 اکتوبر2025ء) خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے سوات کے علاقے مٹہ میں پولیو ویکسین ٹیم پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسداد پولیو مہم میں خدمات سر انجام دینے والے اہلکار قوم کے محافظ ہیں ،لیویز افسر یاسین شہید کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔
(جاری ہے)
منگل کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق خاتون اول نے اس المناک واقعہ میں جانی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو ناقابل علاج بیماریوں سے بچانے کے عظیم مشن پر مامور کارکنوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر درحقیقت انسانیت کے دشمن ہیں۔
انہوں نے شہید لیویز افسر کی ہمت اور فرض شناسی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آصفہ بھٹو زرداری نے اس بات کی تصدیق کی کہ پولیو کا خاتمہ ہماری قومی ترجیح ہے ۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے بزدلانہ اقدامات پاکستان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے، ہمارا عزم ہر بچے کے لئے صحت مند، محفوظ اور پولیو سے پاک مستقبل کو یقینی بنانا ہے۔خاتون اول نے سوگوار خاندان کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا اور شہید اہلکار یاسین کے بلندی درجات کے لئے دعا کی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے خاتون اول
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔