افغان قیادت سے رابطے ہوئے ہیں، معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیں: فضل الرحمان WhatsAppFacebookTwitter 0 14 October, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ افغان قیادت سے رابطے ہوئے ہیں، معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیں۔اسلام آباد میں کنونشن سینٹر میں میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ ماضی میں پاک افغان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا تھا اب بھی کرسکتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ افغان قیادت سے رابطے ہوئے ہیں، معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیں، پاک افغان جنگ بندی تو ہوگئی اب زبان بندی بھی ہونی چاہیے، اشتعال کے بجائے معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ تحریک لبیک کے ساتھ جو سلوک کیا گیا پہلے بھی مذمت کی اب بھی کرتا ہوں، کسی بھی صورت تحریک لبیک کے ساتھ تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ان کا کہنا تھاکہ کشمیر پر افغان وزیر خارجہ کے بیان پر واویلا کرنے کے بجائے کشمیر پر اپنے کردار کو بھی دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں وزیر اعلی کے انتخاب کا معاملہ عدالت میں ہے، عدالت کو آئین و قانون کے مطابق معاملے کو دیکھنا چاہیے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئی ایم ایف کی ورلڈ اکنامک آٹ لک رپورٹ جاری، پاکستان میں بیروزگاری میں کمی کی پیشگوئی آئی ایم ایف کی ورلڈ اکنامک آٹ لک رپورٹ جاری، پاکستان میں بیروزگاری میں کمی کی پیشگوئی غزہ کی تعمیرِنو کے لیے 70 ارب ڈالر درکار، کئی ممالک امداد کے لیے تیار ہیں: اقوام متحدہ ٹی ایل پی واقعے پرجعلی خبروں کیخلاف کارروائی شروع، فیک نیوز نیٹ ورکس بے نقاب، مرکزی کرداروں کی فہرست تیار ‘میرا سر شرم سے جھک گیا’، جاوید اختر کی بھارت میں افغان وزیر خارجہ کے استقبال پر سخت تنقید پولیس نے سعد رضوی کے گھر چھاپے میں برآمد ہونیوالے قیمتی سامان اور نقدی کی تفصیل جاری کردی لاہور ٹیسٹ کا تیسرا روز ختم، جنوبی افریقا کو جیت کیلئے 226 رنز درکار TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: افغان قیادت سے رابطے ہوئے ہیں فضل الرحمان

پڑھیں:

وائٹ ہاؤس فائرنگ کا واقعہ: امریکی فوج کا سابق افغان معاون حملہ آور کے طور پر گرفتار

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن:امریکی دارالحکومت میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر ہونے والی فائرنگ نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ حملہ آور کے طور پر گرفتار ہونے والا شخص امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والا سابق افغان شہری نکلا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 29 سالہ رحمان اللہ لکنوال نے بدھ کی سہ پہر گشت پر موجود دو گارڈز پر اچانک فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دونوں شدید زخمی ہوئے جبکہ جوابی کارروائی میں حملہ آور بھی زخمی حالت میں پکڑا گیا۔

نیو یارک ٹائمز، سی بی ایس، این بی سی اور دیگر اداروں نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ لکنوال 2021 میں ’آپریشن الائیس ویلکم‘ کے تحت امریکہ منتقل ہوا تھا، جس کے ذریعے افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد امریکی فوج کے سابق معاونین اور اہلکاروں کو امریکہ لایا گیا تھا۔

معلومات کے مطابق لکنوال افغان اسپیشل فورسز میں 10 سال تک قندھار میں تعینات رہا اور مختلف اوقات میں امریکی اداروں خصوصاً سی آئی اے کے ساتھ بھی کام کر چکا تھا۔

امریکی سکیورٹی چیف کرسٹی نوم نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آور ان افغان شہریوں میں سے ہے جنہیں بائیڈن انتظامیہ نے بڑی تعداد میں امریکہ آنے کی اجازت دی تھی،  مزید رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ لکنوال نے 2024 میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی جو 2025 میں منظور ہوئی۔

واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے دہشت گردی کی کارروائی  قرار دیتے ہوئے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستوں پر فوری پابندی عائد کر دی، امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کے مطابق اب افغان شہریوں کی نئی اور زیرِ سماعت درخواستیں غیر معینہ مدت تک روک دی جائیں گی۔

واشنگٹن پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے گھات لگا کر فائرنگ کی جبکہ ایف بی آئی نے تصدیق کی کہ زخمی گارڈز کی حالت تشویشناک ہے۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی اور وزیر دفاع نے دارالحکومت میں مزید 500 فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کیا۔

دوسری جانب افغان ایویک  نامی تنظیم نے اس فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان تارکین وطن انتہائی سخت اسکریننگ سے گزرتے ہیں، لہٰذا ایک شخص کے جرم کو پوری کمیونٹی کے خلاف کارروائی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی

متعلقہ مضامین

  • امریکا میں مقیم افغانوں کی ٹرمپ سے امیگریشن درخواستیں نہ روکنےکی اپیل
  • افغان پاسپورٹس پر امریکی ویزے  اور اسائلم کی درخواستوں پر کام بند
  • پی ٹی آئی قیادت جیل میں سیاسی نوعیت کی ملاقاتیں کرنا چاہتی ہے، عقیل ملک
  • بانی پی ٹی آئی جیل میں بیٹھ کر حکومت کے خلاف تحریک چلانا چاہتے ہیں،رانا ثنا اللہ
  • عمران خان سے ہر شخص کی ملاقات کراتے ہیں جیل کے باہر کے معاملات کے ذمہ دار نہیں، جیل انتظامیہ
  • سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان فوجی تعاون کے لیے رابطے
  • وائٹ ہاؤس فائرنگ کا واقعہ: امریکی فوج کا سابق افغان معاون حملہ آور کے طور پر گرفتار
  • رانا ثنااللہ: عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں، لیکن آئی ایم ایف کی شرائط روڑ بن گئی ہیں
  • شہباز شریف بھی غزہ کے روشن مستقبل کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، امریکی صدرٹرمپ
  • پاک افغان بارڈر بندش سے پریشان تاجر مدد کیلئے فضل الرحمان کے پاس پہنچ گئے