data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس کا اگر خلاصہ کیا جائے تو وہ ایک جملے میں سمٹ آتا ہے: ’’سندھ کی گورننس بہترین ہے‘‘۔ یہ جملہ نہ صرف ایک سیاسی تاثر کو جنم دیتا ہے بلکہ پورے بیانیے کی معنویت اور اثر پذیری کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یہ وہ جملہ ہے جس نے عوامی رائے، سیاسی شعور اور زمینی حقائق کے درمیان موجود خلیج کو پوری شدت کے ساتھ عیاں کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ ’’بہترین گورننس‘‘ کہاں پائی جاتی ہے؟ کیا یہ وہی سندھ ہے جہاں عوام پینے کے صاف پانی، صحت، تعلیم اور بنیادی حقوق کے لیے برسوں سے ترس رہے ہیں؟ یا یہ کوئی اور مملکت ہے جہاں سب کچھ آئیڈیل ہے اور ہم دیکھ نہیں پا رہے؟ اگر اس ’’بہترین گورننس‘‘ کو کراچی کے آئینے میں دیکھا جائے تو تصویر کسی المیے سے کم نہیں۔ کراچی، جو کبھی روشنیوں کا شہر تھا، آج ٹوٹی سڑکوں، اُبلتے گٹروں، کچرے کے ڈھیروں اور بدحالی کا مرقع ہے۔ یہ وہی شہر ہے جو ملک کی معیشت میں سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، لیکن شہری سہولتوں میں سب سے پیچھے ہے۔ جہاں بارش ہو تو شہر ڈوب جاتا ہے، گرمی بڑھے تو بجلی غائب ہو جاتی ہے، اور روزگار ڈھونڈنا گویا خواب بن چکا ہے۔ اگر یہی بہترین گورننس ہے تو پھر ناکامی کسے کہتے ہیں؟

کراچی کے عوام کے سامنے حقیقت یہ ہے کہ شہر کے گلی کوچوں میں گندگی، بدبودار پانی، ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور جرائم کا راج ہے۔ صحت کے مراکز خستہ حالی کا شکار ہیں، تعلیمی ادارے زوال پذیر ہیں اور شہریوں کو سب سے بنیادی سہولتوں کے لیے بھی ترسنا پڑتا ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس نے عوام کے دلوں میں حکومتی دعووں پر اعتماد کو ختم کر دیا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود اگر یہی ’’بہترین گورننس‘‘ ہے تو پھر یہ بیانیہ عوامی حقیقت کے منہ پر ایک طمانچہ محسوس ہوتا ہے۔ حکمران طبقے کے لیے بیانیہ ہمیشہ حقیقت سے زیادہ اہم رہا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ عوام کو حقیقت سے زیادہ مؤثر طریقے سے قابو بیانیہ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ ایک ایسا صوبہ جہاں صحت، تعلیم، صاف پانی، انفرا اسٹرکچر اور عوامی فلاح کے تمام اشاریے زوال کا شکار ہیں، وہاں ’’بہترین گورننس‘‘ کا دعویٰ دراصل زمینی سچائی پر بیانیے کا پردہ ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ وہی سندھ ہے جہاں دیہی علاقوں میں آج بھی بنیادی صحت کے مراکز خالی ہیں، اسپتالوں میں ڈاکٹرز نہیں، اسکولوں میں اساتذہ نہیں، اور شہروں میں صفائی کا کوئی نظام نہیں۔ یہ محض کوئی انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے جس کے ذریعے طاقت کے مراکز اور اقتدار کے ایوان ایک دوسرے کا تحفظ کرتے ہیں۔ جب بیانیہ حقیقت پر غالب آ جاتا ہے تو عوام کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے، اور یہ کمزوری دراصل جمہوریت کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتی ہے۔

ملک میں جمہوریت کا راگ ہمیشہ اونچی آواز میں الاپا جاتا ہے۔ لیکن جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے، جوابدہی کے نظام کو مضبوط کرنے اور عوامی مفاد کو ترجیح دینے کا نام ہے۔ سندھ میں دہائیوں سے ایک ہی سیاسی جماعت حکومت میں ہے، مگر عوام کی حالت زار روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود اگر حکومتی کارکردگی کو ’’بہترین گورننس‘‘ قرار دیا جائے تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ ایک سیاسی تھیٹر معلوم ہوتا ہے جس میں عوام محض تماشائی ہیں۔

جب حکومتی بیانیہ حقیقت سے الگ ہو جائے تو عوام کے اندر مایوسی جنم لیتی ہے۔ سندھ کے عوام آج اسی مایوسی کا شکار ہیں۔ وہ ووٹ دیتے ہیں، وعدے سنتے ہیں، مگر ان کے گلی محلوں میں کچھ نہیں بدلتا۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں جمہوریت کا راگ الاپنے والے دراصل اس نظام کے محافظ بن جاتے ہیں جو عوامی فلاح کے بجائے طاقت کے توازن کو محفوظ رکھتا ہے۔ یہ کہنا کہ سندھ کی گورننس بہترین ہے، دراصل اْس پالیسی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جس کے تحت جماعت اسلامی کو کراچی کی میئرشپ نہیں دی گئی۔

کراچی کے عوام نے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کو واضح اکثریت دی تھی، لیکن سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے اْن کا حق چھین لیا گیا۔ کیوں؟ کیونکہ بہترین گورننس کے اس تاثر کو برقرار رکھنے کے لیے اصل تبدیلی لانے والوں کو راستے سے ہٹانا ضروری سمجھا گیا۔ اگر شہر کا نظم و نسق واقعی عوام دوست قوتوں کے ہاتھ میں آ جاتا تو یہ بیانیہ خود بخود ٹوٹ جاتا۔ اس لیے اسے کسی بھی قیمت پر بچایا گیا — چاہے وہ عوامی مینڈیٹ کی قیمت پر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ فیصلہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ گورننس عوام کے لیے نہیں، بلکہ ایک مخصوص سیاسی مفاد کے تحفظ کے لیے ہے۔ یہ حقیقت اب ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں گورننس صرف منتخب حکومتوں کے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔ طاقت کے کئی مراکز ہیں اور ہر مرکز اپنے مفادات کے گرد حکمت ِ عملی ترتیب دیتا ہے۔ جب ان مراکز کے مفادات ایک ہو جائیں تو وہ ایک دوسرے کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ اسی لیے ایک بدحال صوبے کو بھی ’’بہترین گورننس‘‘ کا تمغہ ملتا ہے۔ کیونکہ اس سے موجودہ طاقت کا ڈھانچہ مضبوط رہتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا عوام کے لیے بھی یہی نظام ہے؟ جواب صاف ہے۔ نہیں۔ عوام کے لیے یہ نظام صرف وعدوں اور بیانیوں کا ہے۔ جب عوام کو روٹی، پانی، بجلی اور انصاف نہیں ملتا تو انہیں ایک خوبصورت جملہ دے دیا جاتا ہے۔ ’’ہم بہترین گورننس فراہم کر رہے ہیں‘‘۔ یہ جملہ اخبارات کے فرنٹ پیجز اور ٹی وی اسکرینز پر خوب بکتا ہے۔ مگر وہ ماں جو بیمار بچے کو سرکاری اسپتال میں دوائی کے بغیر تڑپتے دیکھتی ہے، وہ نوجوان جو نوکری کے لیے مارا مارا پھر رہا ہے، وہ بزرگ جو بارش میں گندے پانی میں ڈوبا گھر بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اْن کے لیے یہ بیانیہ ایک طنز بن جاتا ہے۔ یہی طنز اس پورے سیاسی و حکومتی ڈھانچے کا اصل چہرہ ہے۔ اس کے پیچھے عوامی بے بسی، بدحالی اور محرومی چھپی ہوتی ہے۔ سندھ کے عوام دہائیوں سے ان زخموں کے ساتھ جی رہے ہیں۔تھرپارکر میں بچے بھوک اور بیماری سے مر رہے ہیں، لاڑکانہ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے، حیدرآباد میں پانی آلودہ ہے، سکھر میں روزگار ناپید ہے، اور کراچی میں شہری سہولتیں خواب بن چکی ہیں۔

یہ وہ سندھ ہے جو حکمرانوں کے بیانیے میں ترقی یافتہ ہے اور حقیقت میں زخموں سے چور۔ یہ زخم صرف غربت کے نہیں، بے بسی کے ہیں۔ وہ بے بسی جو تب جنم لیتی ہے جب آپ کا ووٹ تو ہوتا ہے مگر آواز نہیں سنی جاتی، جب آپ ٹیکس دیتے ہیں مگر سڑکیں پھر بھی ٹوٹی رہتی ہیں، جب آپ اسپتال جاتے ہیں مگر علاج کے لیے پیسے اور تعلقات درکار ہوتے ہیں۔ یہ سوال اب مزید دبایا نہیں جا سکتا۔ اگر جمہوریت عوام کے مفاد کے لیے ہوتی تو سندھ کے عوام آج اس حال میں نہ ہوتے۔ یہ جمہوریت دراصل ایک طبقاتی مفادات کے تحفظ کا آلہ بن چکی ہے، جس میں عوام محض اعداد و شمار ہیں، حقیقی طاقت نہیں۔ جب ایک صوبہ دہائیوں سے بدحال ہو اور پھر بھی اسے ’’بہترین گورننس‘‘ کا سرٹیفکیٹ ملے تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ جمہوریت نہیں بلکہ سیاسی اسٹیج شو ہے۔

جس دن عوامی نمائندگی اور فیصلہ سازی حقیقی معنوں میں عوام کے ہاتھ میں آ گئی، اس دن یہ بیانیے خود بخود زمین بوس ہو جائیں گے۔ اسی لیے ان بیانیوں کو زندہ رکھا جاتا ہے تاکہ عوام کے اندر سوال اٹھانے کی جرات نہ پیدا ہو۔ سندھ کی گورننس کو ‘‘بہترین’’ کہنا دراصل ایک سیاسی مصلحت ہے، حقیقت نہیں۔یہ بیانیہ عوام کے زخموں پر مرہم نہیں بلکہ نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

سوال صرف اتنا ہے کہ آخر کب تک بیانیہ حقیقت کو دبا سکے گا؟ کب تک عوام کو جملوں سے بہلایا جائے گا؟ کب تک ایک ناکام گورننس کو بہترین کہا جاتا رہے گا؟ یہ ملک جب تک عوام کے لیے نہیں، بلکہ چند مراکز کے مفاد کے لیے چلتا رہے گا، تب تک ایسے جملے آتے رہیں گے اور عوام زخم سہتے رہیں گے۔ لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ بیانیے ہمیشہ حقیقت کے سامنے ہار جاتے ہیں۔ اور وہ دن آئے گا جب سندھ کے عوام اپنے زخموں کو بیانیے کے شور میں گم ہونے نہیں دیں گے۔

میر بابر مشتاق.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بہترین گورننس سندھ کے عوام عوام کے لیے یہ بیانیہ نہیں بلکہ یہ حقیقت یہ ہے کہ عوام کو سندھ کی ہے جہاں رہے ہیں جائے تو جاتا ہے یہ وہی ا جاتا

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان