آئی ایم ایف کا مطالبہ، حکومت نے کرپشن اینڈ گورننس رپورٹ شائع کرنے کیلئے مہلت مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
سیلاب کے باعث صوبوں کی زرعی آمدن پر انکم ٹیکس نافذ کرنے کیلئے مزید مہلت طلب ،معاشی ٹیم نے اسٹرکچرل بنچ مارکس پر نرمی کی درخواست کی ہے تاکہ معاہدہ جلد از جلد مکمل ہو سکے، ذرائع
سیلاب سے زرعی معیشت متاثر ہونے کے سبب صوبے فوری طور پر ایگریکلچر انکم ٹیکس نافذ کرنے پر آمادہ نہیں ،اسٹاف لیول معاہدے کیلئے 4 اہم نکات پر ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ
حکومت نے آئی ایم ایف سے کرپشن اینڈ گورننس رپورٹ پبلش کرنے کے لیے مہلت مانگ لی۔وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق سیلاب کے باعث صوبوں نے زرعی آمدن پر انکم ٹیکس نافذ کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کی ہے۔ سیلاب سے زرعی معیشت متاثر ہونے کے سبب صوبے فوری طور پر ایگریکلچر انکم ٹیکس نافذ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدے کے لیے 4 اہم نکات پر ورچوئل مذاکرات جاری ہیں۔ اس سلسلے میں وزارتِ خزانہ ذرائع کے مطابق سرکاری افسران کے اثاثے ظاہر کرنے اور کرپشن اینڈ گورننس ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ کے نکات بھی مذاکرات کا حصہ ہیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت نے کرپشن اینڈ گورننس رپورٹ پبلش کرنے کے لیے مہلت طلب کی ہے جب کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سرکاری سطح پر گندم خریداری کے لیے اوپن مارکیٹ یا نجی شعبے سے خریداری کا میکنزم فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق معاشی ٹیم نے اسٹرکچرل بنچ مارکس پر نرمی کی درخواست بھی کی ہے تاکہ معاہدہ جلد از جلد مکمل ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: انکم ٹیکس نافذ کرنے کرپشن اینڈ گورننس ا ئی ایم ایف کے لیے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔