افغانستان کی سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاک فضائیہ بھی حرکت میں آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے بلااشتعال حملوں کے بعد پاک فضائیہ حرکت میں آ گئی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں نے افغانستان کے مختلف علاقوں خصوصاً کابل، پکتیا اور سرحدی پٹیوں پر مسلسل گشت شروع کر دیا ہے، جبکہ ڈرون حملوں کے ذریعے ٹی ٹی پی کے خفیہ ٹھکانوں اور تربیتی مراکز کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ان ٹارگیٹڈ آپریشنز کا مقصد پاکستان میں بدامنی پھیلانے والے خوارجی گروہوں کی پشت پناہی کو توڑنا اور ان کے محفوظ ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کرنا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی کارروائیوں کے دوران متعدد اہم اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں، کمانڈ سینٹرز اور اسلحہ کی ذخیرہ گاہیں شامل ہیں۔
فضا میں منڈلاتے پاکستانی شاہینوں نے دشمن پر ایسا رعب طاری کر دیا ہے کہ نہ صرف دہشت گرد فرار ہو رہے ہیں بلکہ افغان طالبان عناصر بھی پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔