جعلی ملک ‘ٹورینزا’ کا پاسپورٹ لے کر خاتون کے امریکا پہنچنے کی وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
جاپان کے شہر ٹوکیو سے ایک خاتون کے ‘ٹورینزا’ نامی ایک ملک کے پاسپورٹ کے ساتھ امریکا کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تاہم دنیا میں ‘ٹورینزا’ نامی کوئی ملک موجود نہیں ہے۔
یہ ویڈیو پہلے ٹک ٹاک پر پوسٹ کی گئی اور بعد میں ایکس پر بھی تیزی سے پھیل گئی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچ کر اہلکاروں کو ٹورینزا نامی ملک کے بارے میں وضاحت کرنے کی کوشش کرتی ہے جس پر اہلکار حیران نظر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ڈیپ فیک چہرے کے ساتھ پہلی سرٹیفائیڈ جعلی ویڈیو جاری کر دی گئی
اس ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف افواہیں پھیل گئیں، جن میں متوازی جہانوں اور ٹائم ٹریول اور سرکاری خفیہ سازشوں سے متعلق دعوے شامل تھے۔
تاہم تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک فرضی کہانی ہے۔ ایئرپورٹ حکام، امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن یا کسی مستند خبر رساں ادارے نے اس واقعے کی کوئی تصدیق نہیں کی۔ مزید یہ کہ کسی بھی مسافر کا ایسا ریکارڈ موجود نہیں، جو اس دعوے کو سچ ثابت کرے۔
یہ بھی پڑھیے: آن لائن ویڈیوز کی مدد سے دانتوں کا علاج کرنے والا جعلی ڈینٹسٹ خاندان پکڑا گیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو غالباً 1954 کی مشہور شہری داستان ‘مین فرام ٹاؤریڈ’ سے متاثر ہو کر بنائی گئی ہے جس میں ایک شخص مبینہ طور پر ایک فرضی ملک کے پاسپورٹ کے ساتھ جاپان پہنچا تھا۔ اسی طرح 1959 کے ایک حقیقی فراڈیے، جان زیگروس نے بھی جعلی ممالک کے پاسپورٹس بنا کر بینکوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی تھی۔
یہ تمام شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹورینزا نامی ملک یا اس کے پاسپورٹ کی کہانی محض انٹرنیٹ کی ایک اور تخلیق ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایئرپورٹ اے آئی ویڈیو فیک ویڈیو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئرپورٹ اے آئی ویڈیو فیک ویڈیو کے پاسپورٹ
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔