کراچی: معصوم بچوں کے سامنے باپ کو قتل کرنے والا ڈکیت گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
کراچی:
اورنگی ٹاؤن میں ڈکیتی مزاحمت پر معصوم بچوں کے سامنے والد کو فائرنگ کرکے قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔
ویسٹ پولیس کے مطابق 28 ستمبر کو محمد مصطفیٰ کالونی میں واردات کے دوران فائرنگ کرکے سجاد نامی شہری کو قتل کیا گیا تھا۔
واقعے کا مقدمہ الزام نمبر 314/2025 بجرم دفعہ 302/393/397/34 مقتول کے سسر کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں ملزمان کو واضح طور پر فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور خفیہ اطلاع کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے ملزم محمد بلال ڈھیرہ ولد شاہ عالم کو گرفتارکرلیا۔
گرفتار ملزم سے واردات میں استعمال ہونے والا غیر قانونی اسلحہ بمعہ ایمونیشن، موبائل فون اور نقدی برآمد کرلی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزم کے خلاف سندھ اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :