Jasarat News:
2026-07-24@08:50:41 GMT

پاکستان کو نسلی تعصب ڈوبو رہا ہے

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251015-03-4

 

حبیب الرحمن

پاکستان کی تاریخ پر اگر غور کیا جائے تو یہ ’’دو نظریات‘‘ کی بنیاد پر بنا تھا لیکن اس کے مسلسل انحطاط کی وجہ نہ صرف اللہ سے کیے گئے وعدے سے انحراف ہے بلکہ سخت نسلی تعصب بھی ہے۔ برِصغیر میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کے سامنے جو وعدہ کیا تھا وہ یہی تھا ہم ایک ایسا خطہ زمین چاہتے ہیں جہاں اللہ اور اس کے رسول کے دین کو نافذ کریں گے، لیکن پاکستان بن جانے کے بعد ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے سے بھی کم وقت میں اس عہد سے انکار کر تے ہوئے پورے ملک میں اسی فرنگی نظام کو رائج کر دیا گیا تھا جس سے نجات کے لیے کم از کم ڈھائی سو برس سے مسلمانانِ ہند قربانیاں پیش کرتے آئے تھے اور 1940 کے بعد سے تو ان قربانیوں میں اتنا اضافہ ہو گیا تھا کہ 20 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو شہادتیں پیش کرنا پڑیں۔ جو عزتیں لٹیں، جائدادیں چھینی گئیں اور مالی نقصان ہوا اس کا تو کوئی حساب کتاب ہی نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان بن جانے کے اگلے ہی لمحے نسلی اور لسانی تعصبات نے جنم لینا شروع کر دیا تھا۔ پاکستان کی ساری مقتدر ہستیاں بجائے یہاں اپنے کیے گئے عہد پر قائم رہتیں، اپنے اپنے اندازِ فکر کو رائج کرنے میں لگ گئیں۔ سب سے پہلے تو اپنے کافرانہ نظریات کو پاکستان میں مروج کرنے کے لیے اپنی راہ سے ان ہستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا شروع کر دیا جن سے اس بات کا خطرہ تھا کہ وہ نظامِ کفر کی راہ میں ان کے لیے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

قائد ِ اعظم کی ہدایات کو سرے سے نہیں ماننا اور لیاقت علی خان کو بھرے جلسے میں گولی کا نشانہ بنانا اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے بجائے بکنگھم پیلس بنایا جائے گا۔ ان ہستیوں کے راستوں سے ہٹانے اور ایوب خان کے ماشل لا نافذ کرنے کے بعد اگر ان کی نظروں میں کوئی اور ہستی بڑی رکاوٹ ہو سکتی تھی تو وہ محترمہ فاطمہ جناح ہو سکتی تھیں۔ چنانچہ ایوب خان نے ان کو پاکستان کا غدار اور انڈین ایجنٹ کے نام سے اتنا مشہور کیا کہ پاکستان کے اس وقت کے دوسرے اور اِس وقت کے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں کتیوں کے گلوں میں فاطمہ جناح کے نام کی تختیاں تک لٹکوائی گئیں۔ مادر ملت یا قائد کی بہن کا احترام نہ بھی کیا جاتا تو شاید کتیوں کے گلوں میں ’’فاطمہ‘‘ نام کی تختیاں لٹکانا اتنا مکروہ فعل نہ ہوتا جتنا اْس ہستی کے نام کی تذلیل تھی جو آپؐ کی صاحب زادی کے نام کی ہوئی۔ یہ تھا اس نسلی تعصب کا آغاز جو پورے پاکستان میں اسلام کو نظریہ اسلام کو پس ِ پشت ڈال کر یہاں علاقائیت اور لسانیت کے زہر کو پھیلایا گیا۔

کراچی پر پاکستان کے ایک شمالی صوبے کے لوگوں سے باقائدہ حملے کرائے گئے اور وہ لوگ جن کی قربانیوں سے اس ملک نے جنم لیا تھا ان کو غداروں کی فہرست میں ڈال دیا گیا جس میں خود قائد ِ اعظم کی بہن کو سر فہرست رکھا گیا۔ نسلی، لسانی اور علاقائیت کا یہ سلسلہ رکا نہیں۔ پاکستان کی شمالی سرحدوں کی مستقل سرحدیں نہ بنانا اور کشمیر کی سرحد کو کنٹرول لائین کا نام دینا اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ پاکستان اور افغانستان میں آباد پختونوں اور بھارت کے کشمیریوں کو تو اپنا سمجھا جائے لیکن کھوکھراپار کا راستہ بند کرکے ہندوستان اور پاکستان میں مقیم خونی رشتوں کو غدار تصور کیا جائے، نسلی عصبیت نہیں ہے تو کیا ہے۔ سب سے پہلے بنگالی مسلمانوں کے خلاف طاقت کو استعمال کرکے اور سیاسی اور سماجی حقوق سے محروم کر کے ذہنی طور پر ان کو پاکستان کے خلاف بنا گیا اور پھر ان کو راہ راست پر لانے کے لیے گولی و گولہ بارود کے زور پر اپنا بنانے کی کوشش آخر کار ان کو پاکستان ہی سے دور لے گئی۔ ان سب کے باوجود تاریخ سے سبق حاصل کرنے کے بجائے پاکستان میں سندھی و مہاجر فسادات کو حکومتی سطح پر ابھارا گیا جس کا سلسلہ آج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے۔ جنوبی وزیرستان کے آپریشنوں اور افغانستان کے خراب حالات کی وجہ سے جو گروہ بھی پاکستان میں داخل ہوئے ان کو کراچی کے چپے چپے پر لا کر بے ہنگم انداز میں بسا یا گیا اور شہر کا حلیہ بری طرح بگاڑا گیا۔ اْس وقت یہاں ایم کیو ایم کا توتی بولتا تھا، انہوں نے صرف اتنا کہا تھا کہ جو بھی یہاں آ رہے ہیں ہم صرف ان کو رجسٹرڈ کرنا چاہتے ہیں، تاکہ حساب رکھا جا سکے کہ یہاں کون کون اور کتنی تعداد میں آئے ہیں تو پورے پاکستان نے اس کو لسانیت کا رنگ دے کر سارے جنوبی وزیرستانیوں اور افغانیوں کو ایم کیو ایم کا نام دے کر اہل کراچی کا دشمن بنانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔

نسلی تعصب کی اس سے بڑی دلیل کیا ہوگی کہ پاکستان کے آئین میں وہ شق قانون کا حصہ بنادی گئی جس کی وجہ سے کراچی و حیدرآباد کے لوگ تیسرے کیا، دسویں درجے کے شہری بھی نہیں گنے جاتے جس کو کوٹا سسٹم کے نام سے تاریخ ہمیشہ ہمیشہ یاد رکھے گی۔

اب صرف پوچھنا یہ ہے کہ جن کی وفاداریاں آپ کے نزدیک قرآن و حدیث سے بڑھ کر تھیں، وہ پاکستان کے غداروں سے بھی زیادہ بڑھ کر غداری پر اترے ہوئے ہیں یا کھوکھراپار کی طرف سے پاکستان میں داخل ہونے والے۔ جب تک نسلی تعصب کا سلسلہ بند نہیں ہوگا اور اصل پاکستانیوں کے ساتھ متعصبانہ اور منفی رویہ ختم نہیں کیا جائے گا، اس وقت پاکستان کا پاکستان بننا، ایک رہنا اور اسلام کا قلعہ بننا ایک خواب کے سوا اور کچھ نہیں۔

حبیب الرحمن.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان میں کو پاکستان کہ پاکستان پاکستان کے نسلی تعصب نام کی کے لیے تھا کہ کے نام

پڑھیں:

گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟

گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔

کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا

اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔

گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔

یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں

گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔

پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی

ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گوگل گوگل پاسپورڈ

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا