data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (رپورٹ: منیر عقیل انصاری) کرکٹ اور ہاکی کو نچلی سطح پرختم کردیا گیا‘تباہی کاسبب سیاسی مداخلت ہے ‘کرکٹ بورڈاور ہاکی فیڈریشن نوجوان کی تربیت ،انفرااسٹرکچر کی بہتری اورمضبوط ڈومیسٹک پالیسی بنانے میں ناکام رہا‘سفارش پر کھلاڑیوں کا انتخاب ہوتا ہے‘ عجلت میں ٹیم تیار کی جاتی ہے، لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان طویل عرصے تک انٹرنیشنل کرکٹ سے محروم رہا۔ان خیالات کا اظہار قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان، تجزیہ کار راشد لطیف‘ دنیائے کرکٹ کے عظیم بیٹسمین، سابق ٹیسٹ کپتان جاوید میاں داد کے بھانجے، 26 ٹیسٹ میچ کھیلنے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر فیصل اقبال اور ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کراچی کے میڈیا کوآرڈینٹر، سندھ سیپاک ٹاکرا ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر محمد عارف حفیظ نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’پاکستان میں کرکٹ اور ہاکی کے زوال کے اسباب کیا ہیں؟ ‘‘راشد لطیف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ اور ہاکی کے زوال کی وجوہات میں کھیلوں کے انفرااسٹرکچر کا فقدان، باصلاحیت اور نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت میں ناکامی، کرکٹ بورڈز میں ناقص انتظام اور حکومتی سطح پر کھیلوں کے فروغ کے لیے کم توجہ شامل ہیں‘ ٹیموں میں کھلاڑیوں کا انتخاب میرٹ کی بجائے سفارشات کی بنیاد پر ہوتا ہے جس سے کھیل کی کوالٹی متاثر ہوتی
ہے اور پالیسیاں غیر واضح ہیں، جسے بہتر بنانا وقت کی ضرورت ہے، پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ ختم کرکے اور کرکٹ بورڈ اور پاکستان ہاکی فیڈریشن پر نت نئے تجربے کرکے کرکٹ کا گلا گھونٹا گیا ہے‘ کرکٹ تباہی کے دھانے پر ایسے ہی نہیں پہنچی اس میں حکومت اور سابق لیجینڈز کا اہم کردار رہا ہے‘ سب اپنا اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے آئے ہیں ۔کسی بھی ملک کی کرکٹ کی بنیاد اس کے گھریلو ڈھانچے پر ہوتی ہے‘ بچوں کا معیار گرتا جا رہا ہے، کوچنگ سہولیات ناکافی ہیں اور نوجوان کھلاڑیوں کو ترقی دینے کے لیے کوئی مربوط نظام موجود نہیں ہے‘ قومی ٹیم میں انتخاب اکثر ‘‘قربت’’ یا ‘‘تعلقات’’ کی بنیاد پر ہوتا ہے ناکہ صلاحیت اور فارم کے مطابق۔ جب تک ڈومیسٹک کرکٹ اور ہاکی کو ٹھیک کرنے کے لیے سخت اقدامات نہیں کیے جاتے‘ پاکستان میں کرکٹ اور ہاکی میں بہتری نہیں آ سکتی ہے۔فیصل اقبال نے کہاکہ پاکستان میں کرکٹ اور ہاکی کے زوال کی کئی وجوہات ہیں پاکستان میں نچلی سطح پر کرکٹ اور ہاکی کو ختم کردیا گیا ہے ‘ ناقص حکومتی پالیسیاں، بدعنوانی، بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت اور بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے‘ اسکول، کالج اور یونیورسٹی لیول پر یہ کھیل ختم ہوگئے ہیں‘ کھلاڑیوں کی تربیت وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہوگئی ہے‘ تعلیمی اداروں کی نرسری سے کھلاڑی آنے بند ہو گئے ہیں‘ ہاکی کے لیے تربیتی مراکز اور بنیادی سہولیات کی کمی نے اس کھیل کی ترقی میں رکاوٹ ڈالی ہے‘ ہاکی فیڈریشن کی جانب سے نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی مناسب تربیت نہ ہونے سے ان کی صلاحیتوں کو صحیح سمت نہیں مل پاتی ہے‘ کرکٹ بورڈ میں مفادات کے تصادم اور انتظامی مسائل نے کرکٹ کے معیار کو گرایا ہے‘ کرکٹ کے لیے ٹیلنٹ کی تلاش اور ان کی مناسب تربیت کا ایک مضبوط نظام نہ ہونے کے برابر ہے‘ غیر ملکی کوچز اور تربیت کے جدید طریقوں کی عدم موجودگی سے پاکستانی کرکٹ کی ترقی رک گئی ہے‘ ہاکی کے میدانوں کی عدم دستیابی اور ہاکی کے لیے حکومتی عدم دلچسپی بھی ہاکی کے زوال کی بڑی وجہ ہے‘ کھیل کے میدانوں پر سیاست دانوں کی مداخلت نے کھیل کے معیار کو شدید نقصان پہنچایا ہے‘ کھلاڑیوں کے مائند سیٹ تبدیل ہوگئے ہیں اور اب سب کچھ شارٹ کٹ کی طرف چلا گیا ہے جس سے کرکٹ اور ہاکی میں زاول آیا ہے۔ڈاکٹر محمد عارف حفیظ نے کہا کہ دنیا کی مختلف ٹیموں نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے کھیل کو بہتر بنایا ہے لیکن پاکستان میں کرکٹ کی کہانی دلچسپ اور عجیب ہی نہیں پیچیدہ بھی ہے‘ ایک ایسی ٹیم جو دوسری ٹیموں کی نسبت کمزور ہوتے ہوئے بھی بعض اوقات کرکٹ ورلڈ کپ اور چیمپیئنز ٹرافی جیسے ٹورنامنٹس جیت لیتی ہے‘ اب ایک طویل عرصے سے اس کی کارکردگی غیر مستحکم ہے‘ اب تو کمزور ترین ٹیموں سے شکست کھا جانا معمول کی بات ہے‘ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ہماری کرکٹ کو سیاست کھا گئی ہے اور جب بھی پاکستان کی کرکٹ ٹیم بری کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے‘ سب سے پہلا الزام کرکٹ بورڈ اور اس کے ذمہ داروں پر لگایا جاتا ہے کہ وہ سیاست کا شکار ہیں‘ اس وقت پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک خاص قسم کی ٹوٹ پھوٹ سے گزر رہی ہے اور ایشیا کپ میں بہت بری کارکردگی کے باعث اس کو شدید تنقید کا سامنا ہے‘ تینوں فارمیٹ میں پاکستان کا ہمیشہ ایک نمایاں مقام رہا ہے لیکن اس وقت اِن فارمیٹس میں قومی کرکٹ ٹیم تیزی کے ساتھ زوال کی طرف گامزن ہے‘ انتظامی طور پر عدم استحکام پاکستان کرکٹ بورڈ کا دیرینہ مسئلہ ہے‘ سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے ہمیشہ میرٹ کو نظر انداز کیا گیا ہے جس سے کرکٹ ٹیم کی کارکردگی خراب ہوتی جا رہی ہے‘ دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ کروڑوں روپے سالانہ معاوضہ لینے والے ملازمین کا بھی احتساب کرنے سے قاصر ہے‘ نئے عالمی معیار کے ٹیلنٹ کے نہیں آنے کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ہم نے جان بوجھ کر ڈومیسٹک کرکٹ کو نظر انداز کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے نیا ٹیلنٹ بھی نظر انداز ہوتا ہے۔ اس سے پہلے اداروں کی ٹیموں کی صورت میں ہمیشہ نیا ٹیلنٹ سامنے آتا رہا ہے لیکن بدقسمتی سے جب سے اداروں میں کرکٹ کا بحران آیا ہے پاکستان کرکٹ ٹیم بھی بحران کا شکار ہو گئی ہے‘ اگر حکومتیں اور کرکٹ بورڈ چاہے تو پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ وہی کردار ادا کرسکتی ہے جو انگلینڈ،آسڑیلیا اور نیوزی لینڈ میں ڈومیسٹک کرکٹ کرتی ہے اور اِن ممالک میں وہاں کے کرکٹ بورڈز کو کبھی بھی ٹیم سلیکشن میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا کیونکہ ڈومیسٹک کرکٹ اتنی جاندار ہے کہ وہ سیلکٹرز کو ہر قسم کی صورت حال میں کھیلنے کے لیے کھلاڑی مہیا کرتی رہتی ہے‘ اس میں شک نہیں کہ پاکستان ایک طویل عرصے تک انٹرنیشنل کرکٹ سے بھی محروم رہا ہے اور لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہوئے حملے کے علاوہ کراچی میں بھی نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد پاکستان میں انٹرنیشل کرکٹ کے دروازے بند ہوئے‘ پاکستان کرکٹ ٹیم کو دبئی وغیرہ میں جا کر کھیلنا پڑتا ہے‘ اس دوران پاکستان کرکٹ اور خاص طور پر نئے پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے انٹرنیشنل کرکٹ میں مواقع کم ہو گئے جس کا اثر واضح طور پر کرکٹ کے کھیل پر پڑا ہے۔ ڈاکٹر محمد عارف حفیظ نے کہا کہ قومی کھیل ہاکی کے زوال اور تباہی کے تو بہت سے اسباب ہیں لیکن فی الحال ہاکی کی بہتری کے لیے سخت احتساب اور شفاف اسکروٹنی ناگزیر ہے اور ہاکی کے زوال کا دوسرا اہم سبب گراس روٹ لیول پر ہاکی کا نہ ہونا اور اولمپئنز کی آپس کی چپقلش اور گروپ بندی نے قومی کھیل کو تباہی کی طرف گامزن کردیا ‘آرمی چیف اور صدر پاکستان اور وزیراعظم سے درخواست ہے کہ کرپٹ عناصر کے ساتھ سختی سے نبٹا جائے ۔

منیر عقیل انصاری.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈومیسٹک کرکٹ پاکستان کرکٹ کرکٹ بورڈ کرکٹ ٹیم کرکٹ کے زوال کی کے ساتھ ہوتا ہے رہا ہے گیا ہے ہے اور کے لیے گئی ہے

پڑھیں:

میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟

نیویارک شہر کے کم عمر باسکٹ بال شائقین کے لیے ’بیڈ ٹائم‘ سے متعلق ایک دلچسپ خبر سامنے آئی ہے۔

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ایک خصوصی انتظامی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ این بی اے فائنلز کے دوران بچوں کے سونے کے معمول کے اوقات عارضی طور پر منسوخ تصور کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی پسندیدہ ٹیم نیویارک نکس کے تمام میچز بلا رکاوٹ دیکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: نماز عیدالاضحیٰ: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی منفرد انداز میں شرکت

یکم جون کو جاری کیے گئے اس علامتی حکم نامے میں کہا گیا کہ سونے کے اوقات ’نیویارک کے سب سے پیارے بچوں‘ کو نکس کی حوصلہ افزائی کرنے اور میچ کا ایک ایک لمحہ دیکھنے سے نہیں روک سکتے۔

اس موقع پر میئر ممدانی کے ساتھ نکس کے رنگوں میں ملبوس بچوں کا ایک گروپ بھی موجود تھا، جنہوں نے اپنے ہاتھوں کے نشانات لگا کر علامتی طور پر اس حکم نامے پر دستخط کیے۔

Today, I signed an Executive Order temporarily repealing bedtimes in the City of New York so that kids of all ages can watch our team in the NBA Finals.

As Mayor, you’re forced to make many difficult decisions. This was not one of them.

Go Knicks. pic.twitter.com/DqjNtVh17h

— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) June 1, 2026

میئر ممدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ میئر کی حیثیت سے آپ کو کئی مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، لیکن یہ ان میں سے ایک نہیں تھا۔

انہوں نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر ’گو نکس‘ کا نعرہ بھی لگایا۔

این بی اے فائنلز میں نیویارک نکس اور سان انتونیو اسپرس کے درمیان تمام میچز رات ساڑھے 8 بجے (مشرقی امریکی وقت) شروع ہوں گے۔

سیریز کے پہلے، تیسرے اور چوتھے میچ تعلیمی دنوں سے قبل رات کو کھیلے جائیں گے، جبکہ اگر ضرورت پڑی تو چھٹا میچ بھی اسکول کی رات میں ہوگا۔

ایسے میں بچوں کے لیے دیر تک جاگ کر میچ دیکھنا ایک اہم مسئلہ بن سکتا تھا۔

مزید پڑھیں: ظہران ممدانی کی نیو یارک میں اسٹیٹ ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز

نیویارک نکس کی این بی اے فائنلز میں رسائی شہر بھر میں غیرمعمولی جوش و خروش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

یہ 1999 کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ نکس فائنلز میں پہنچی ہے، آخری بار فائنلز میں انہیں ٹم ڈنکن اور ڈیوڈ رابنسن کی قیادت میں سان انتونیو اسپرس نے شکست دی تھی۔

نکس کی 27 سالہ طویل انتظار کے بعد فائنلز میں واپسی نے باسکٹ بال کے دیوانے نیویارک شہر کو یکجا کر دیا ہے۔

اسپورٹس تجزیہ کاروں کے مطابق نیویارک میں نکس کا فائنلز میں پہنچنا سپر باؤل سے بھی بڑا واقعہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

باسکٹ بال سان انتونیو اسپرس ظہران ممدانی میئر نیویارک نیویارک نکس

متعلقہ مضامین

  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟