Jasarat News:
2026-06-03@03:52:41 GMT

گریٹ گیم میں پھنسے پاکستان اور افغانستان

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251014-03-6

 

عارف بہار

پچھلے چند برس سے پاک افغان جنگ کے سروں پر منڈلاتے بادلوں نے اب برسنا شروع کر دیا ہے۔ ابھی چھاجوں مینہ برسنے والا مرحلہ تو نہیں آیا مگر ہلکی بوندا باندی شروع ہو گئی ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ کشیدگی کا یہ دور اس وقت شروع ہوا ہے کہ جب افغانستان کے لیے پاکستان کی روایتی دفاعی پالیسی اسٹرٹیجک ڈیپتھ (تزویراتی گہرائی) کو عملی شکل مل چکی ہے اور پاکستان کی بوئی ہوئی اور خون جگر سے سینچی گئی فصل طالبان کی صورت میں برسرا قتدار آچکی ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ یہ افغانستان میں پاکستان کا آخری اثاثہ ہے۔ اس اثاثے کی خاطر ماضی کے کئی اثاثوں برہان الدین ربانی، گل بدین حکمت یار اور نجانے کس کس کو قربان کیا گیا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ان اثاثوں کو کابل کے اقتدار میں لانے کے لیے امریکا کی طرف سے ڈبل گیم کا الزام بھی سہنا پڑا اور مغربی میڈیا اور ملکوں میں دہشت گردی برآمد کرنے والے ملک کے الزام میں نیک نامی کی قربانی بھی دینا پڑی۔ یہ پاکستان کے شہروں میں پیدا ہونے والے بچے ہیں اگر ان کی پیدائش افغانستان کی بھی ہے تو تب بھی زندگی کی تیس چالیس بہاریں پاکستانی فضاؤں میں گزار چکے ہیں۔ ان میں اکثر پاکستان کے دینی مدارس سے تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ اسی لیے ان میں اکثر اْردو اتنی روانی سے بولتے ہیں کہ اپنا مافی الضمیر آسانی سے بیان کرتے ہیں۔ یہاں تک اب بھارت میں بھی انہیں زبان کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوتا اور افغان اہلکار بھارتی میڈیا اور عوام کا سامنا آسانی سے کرتے ہیں جیسا کہ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ دورہ بھارت میں ہوا۔ وہ دارالعلوم دیوبند سمیت پریس کانفرنسوں میں روانی سے اْردو بولتے ہوئے نظر آئے۔

طالبان کا کابل میں داخل ہونا پاکستان کی اس تزویراتی گہرائی کی تکمیل تھی جس کا خواب پاکستانی جرنیلوں نے ستر اور اسی کی دہائیوں میں دیکھا تھا۔ جس کا خواب جنرل ضیاء الحق اپنی تقریروں میں دکھاتے رہے۔ جنرل اسلم بیگ اپنی تحریروں میں اس نئے جہان کی منظر کشی کرتے رہے اور جنرل حمید گل اپنے انٹرویوز میں مستقبل کے کینوس پر جس کے رنگ بکھیرتے رہے۔ جس کا خلاصہ یوں تھا کہ جب مجاہدین کی حکومت کابل میں قائم ہوگی پہلے سوویت یونین اور بعدازاں امریکا خطے سے بھاگ جائے تو پاکستان اپنی مغربی سرحد کے دفاع سے غافل ہوجائے گا۔ یوں اس کو اپنی پوری فوجی توجہ مشرقی سرحد پر مرکوز کرنا ہوگی۔ مغربی سرحد پر ایک پاکستان دوست حکومت ضرورت پڑنے پر مغربی سرحد پر بھارت کو سبق سکھانے میں بھی پاکستان کی معاونت کرے گی اگر عملی معاونت نہ بھی کرے تب بھی پاکستان کے لیے ڈیورنڈ لائن کو ٹھنڈا رکھ کر پاکستان کو یکسوئی کے ساتھ مشرقی سرحد پر لڑنے کا موقع فراہم کرے گی۔ اسی تصور کو جنرل ضیاء الحق کے دورمیں ’’پاکستان سے باہر پاکستان کا دفاع‘‘ کا ذیلی عنوان دیا گیا تھا۔ اس تصور نے سقوط ڈھاکا کے نفسیاتی اثرات سے جنم لیا تھا۔ یہ وہ سبق ہے جو افغانستان کے بارے میں مدتوں تک پڑھایا جاتا رہا اور پاکستان کا عام آدمی اس تصور تی منظر کشی کے سحر میں گم رہا۔ کابل پر دوسری بار طالبان کا کنٹرول ہوگیا۔ سوویت یونین کے بعد امریکا بھی رخصت ہوگیا تو اب اسٹرٹیجک ڈیپتھ کے تصور کی تکمیل کے بعد اس کے عملی مظاہرے ہونے کا وقت تھا۔ ہوا یوں کہ اس مرحلے پر پاکستان اور افغانستان کے راہیں جدا ہوگئیں۔ افغانیوں کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ جس امریکا کو انہوں نے سولہ سال لڑ کر نکال باہر کیا ہے دوبارہ اسی کی شرائط پر کسی دوسرے انداز میں واپس قبول کریں۔

امریکا نے افغانستان سے نکلتے ہی پاکستان کی جانب دانہ ٔ دام اْچھالنا شروع کیا۔ ظاہر ہے کہ امریکا کو خطے میں چین کا مقابلہ کرنا ہے۔ ہم لاکھ چین اور امریکا کے درمیان پل بننے اور کام بانٹنے کی بات کریں گوادر کے پہلو میں پسنی کی بندرگاہ کا خاکہ بنا کر دونوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں، امریکا چین کو اپنا کھلا دشمن قرار دے بیٹھا ہے۔ ہماری اتنی سکت نہیں کہ امریکا کا تصورِ دشمن تبدیل کراسکیں یا چین کو امریکا کی بالادستی ماننے پر آمادہ کر سکیں۔ یہ تو بڑی طاقتوں کے بڑے کھیل ہیں جن میں پاکستان جیسے ممالک جنگ کے شعلوں سے اپنا دامن بچانے کی کوشش کر سکتے ہیں یا ایسی حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں کہ وہ متحارب طاقتوں کے کراس فائر میں پھنس کر نہ رہ جائیں۔ امریکا پہلی بار افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور القاعدہ کے نام پر آیا تھا حقیقت میں یہ بھی چین کو محدود کرنے، پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر نظر رکھنے اور معدنی وسائل کا چکر تھا۔ اس بار صدر ڈونلڈ ٹرمپ جیسی شخصیت میں سی آئی اے کے عزائم کو کھل کر بیان کر رہے ہیں انہوں نے چین پر نظر رکھنے کے لیے بگرام ائربیس حاصل کرنے کی بات کر کے کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی۔ اس لیے امریکا کے نئے اور اگلے ایجنڈے کا بوجھ اْٹھانا پاکستان کے بس میں نہیں۔ یہ ایک خطرناک اور پل ِ صراط کا سفر ہے۔ امریکا بگرام ائربیس ایران کے تاجکستان ترکمانستان یا واخان کے ذریعے تو حاصل نہیں کر سکتا۔ لے دے کر اس خواہش کا بوجھ پاکستان کے ناتواں کندھوں پر ہی لادا جانا ہے۔

چین اور امریکا کے افغانستان میں مفادات قطعی مختلف ہیں۔ چین کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے امن درکار ہے جبکہ امریکا کو واپس آنے کے لیے جنگ کا ماحول سازگار ہے۔ ماسکو فورم کا حالیہ اجلاس کا ثبوت ہے جس میں روس، پاکستان، بھارت، چین اور طالبان نے بگرام ائر بیس پر امریکی افواج کی واپسی کی مخالفت کی۔ ایران بھی اس کا ہم آواز ہے۔ امریکا کا بگرام میں واپسی پر اصرار علاقائی قوتوں کو ٹھنڈے پیٹوں تو ہضم نہیں ہوگا جبکہ اس بار امریکا واضح طور پر چین کے ایٹمی ہتھیاروں پر نظر رکھنے کے عزم وارادے کے ساتھ لوٹ آنے کا خواہش مند ہے۔ عالمی طاقتوں کے خطے میں یہی متضاد مقاصد افغانستان کے ہمسائے کے طور پر پاکستان کی مشکل بن چکے ہیں۔ پاکستان کے لیے افغانستان محض ہمسایہ نہیں اس کے سماجی تانے بانے سوشل فیبرک کا حصہ ہے جو ایک اور مشکل ہے۔ پاکستان مصر کی طرح یکسانیت اور یک رنگی کا حامل نہیں۔ اسی لیے مصر کے فارمولے میں اس میں نہیں چل سکتے۔ اس لیے یہاں آمریت کی جڑیں مضبوط ہوتے ہی بحالی ٔ جمہوریت کی خواہش انگڑائیاں لیتی ہے۔ طالبان اپنی حکومت کو امارت اسلامیہ کہتے ہیں۔ اپنی حد تک اپنے نظام کا نام ان کو مبارک ہو مگر وہ اپنا نظام برآمد نہیں کر سکتے۔ پاکستان ایک جدید قومی ریاست ہے جو کئی متنوع علاقائی اکائیوں کا مرکب اور مجموعہ ہے۔ پشتون، تاجک، ازبک اور ہزارہ آبادیوں پر مشتمل خود افغانستان کی آبادیاتی ہیئت ترکیبی یہی ہے جب طالبان اس پر یک رنگی نافذ کرتے ہیں تو جلد یا بدیر ردعمل ظاہر ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ پہلے افغانستان کے ساتھ قریبی تعلقات کو پاکستان کے قومی مفاد میں قرار دیا جاتا تھا اب یہ تصور یوں بدل گیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کو پاکستان کے سماجی تانے بانے کی آبادیاتی اور ثقافتی کا توازن خراب ہونے کے خوف کے طور پر محسوس کیا جانے لگا ہے۔ خواجہ آصف سمیت پنجاب سے تعلق رکھنے والے کئی حکومتی راہنماؤں کی باتوں میں یہی خوف جھلکتا محسوس ہوتا ہے۔

 

عارف بہار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: افغانستان کے پاکستان کے پاکستان کی کے ساتھ ہیں کہ چین کو کے لیے

پڑھیں:

جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم

سٹی 42: علیمہ خانم  نے  فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک  کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے

علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔

جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔

بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات  ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔

افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،

ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار