کراچی حساس شہر ہے‘سب سے پہلے یہاں سے افغانیوں کو نکالا جائے‘وفاقی وزیر تعلیم
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251014-08-29
حیدرآباد(نمائندہ جسارت)وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان کو دو دہائیوں سے کم مشکلات کا سامنا ہے، اس میں افغانستان کو اپنی ذمے داری پوری کرنی چاہیے۔ 27 ویں ترمیم میں دیکھیں گے جن شہروں میں ہمارا مینڈیٹ ہے اس کے لیے کس طرح کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ ہم حکومت کے اتحادی ہیں، شرکت دار ہیں رشتے دار نہیں۔ وہ حیدر آباد میں ایک تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اب افغانستان میں افغانیوں کی حکومت ہے ،وہاں جنگی حالات نہیں ،پاکستان میں آئے افغان مہمانوں کو واپس اپنے ملک لوٹ جانا چاہیے۔ ان کو کیمپوں میں رہنا تھا یہ شہروں میں آ گئے۔ کراچی حساس شہر ہے ،یہاں سے سب سے پہلے افغانیوں کو روانہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے میئر کہتے ہیں حیدرآباد میں 60 ارب کا کام ہوا ہے وہ عرب کیا سعودی عرب سے آ ئے تھے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب تیزی سے آ بادی بڑھ رہی ہے تو صوبے بھی بننے چاہییں۔ حیدرآباد کسی وقت پاکستان کا تیسرا بڑا شہر تھا، ملک کے قیام سے لے کر آ ج تک یہاں کئی یونیورسٹی آ جانی چاہیے تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اب آ رٹیفیشل انٹیلی جنس کا دور ہے آ ج ہمیں پتہ ہے ہم ٹی وی دیکھ رہے ہیں یا ٹی وی ہمیں دیکھ رہا ہے۔ جو ہم سوچ رہے ہیں دنیا اس سے آ گے چلی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں کچھ لوگوں کا مطالبہ یہ ہے ہم تعلیم حاصل نہ کرسکے ،تعلیم آ پ کا حق ہے، رعایت نہیں۔ 77 سالوں میں صرف زمین بچی تھی ضمیر نہیں بچا۔ انہوں نے کہاکہ آج دنیا گلوبل ولیج ہے، تعلیم ترجیح بن گئی ہے اور دنیا بدل گئی ہے۔ دنیا کی سو بڑی کمپنیوں نے ڈگری کی شرط ختم کردی ہے، اب ایسا دور ہے تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے ڈگر ی ہو یا نہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔