قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہر دم تیار رہیں، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251014-08-17
لاہور (آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ زندگی کی بقا کے لیے تمام اداروں کو ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے تاکہ کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں قیمتی انسانی جانوں اور وسائل کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ ٹیکنالوجی، پیشگی تیاری اور باہمی تعاون ہی تباہ کن اثرات سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ قدرتی ا ٓ فات سے بچاو کے عالمی دن پر خصوصی پیغام میں انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، مربوط حکمت عملی اور پیشگی اقدامات سے ان کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب نے تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کا سامنا کیا اور مؤثر منصوبہ بندی کے باعث سب سے بڑا ریسکیو، ریلیف اور انخلا آپریشن کامیابی سے مکمل کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر پنجاب حکومت نے سیلاب کی آمد سے قبل بروقت تیاری نہ کی ہوتی تو بہت بڑے جانی نقصان کا خدشہ تھا، لیکن حکومت کی مربوط حکمت عملی کے باعث لاکھوں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ مویشیوں کو بھی محفوظ بنایا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بروقت اقدامات، ریلیف کیمپوں کے قیام اور میڈیکل سہولیات کی فراہمی سے متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ پر قابو پایا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قدرتی ا نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔