Express News:
2026-06-02@23:47:37 GMT

جمہوری شہنشاہ اور جمہوری خاندان

اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT

ہم سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم یہ جو ’’جمہوری شہنشاہ اور جمہوری شاہی خاندان‘‘کا ذکر کرتے ہیں یہ کون لوگ ہیں۔کیا لوگ ہیں اور کیسے لوگ ہیں یعنی

سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں

ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے؟

تو چلیے آج ان ہی شہنشاہوں اور شاہی خاندانوں کی بات کرتے ہیں اور اس کے لیے ’’جمہوریت‘‘ کا ویر اباوٹ معلوم کرنا ہوگا کہ یہ جہوریت کیا ہے؟ ویسے تو اس جمہوریت کے بارے بہت کہا گیا ہے، کہا جاتا ہے اور کہا جارہا ہے مثلاً

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

لیکن اب وہ بات نہیں رہی جدید جمہوریت میں بندوں کو گنتے نہیں بلکہ’’تولا‘‘ کرتے ہیں فرق یہ ہے کہ ’’تلنے‘‘ والوں کے ساتھ پلڑے میں کچھ اور بھی تولا جاتا ہے۔چنانچہ اس جمہوریت میں جو انتخاب نام کا ڈھونگ یا ڈرامہ ہوتا ہے اس میں صرف وہی لوگ کوالی فائی کرتے ہیں جن کے ساتھ’’پلڑے‘‘ میں لمبی چوڑی جاگیریں ، اچھے خاص فربہ قسم کے بینک بیلنس یا آباؤاجداد کی کمائی ہو۔غداریاں،وطن فروشیاں اور خدمات ہوتی ہیں۔یہ ایک خاص طبقہ ہوتا ہے جو خود کو’’اشرافیہ‘‘کہتا ہے لیکن ہوتا’’ابلیس‘‘ ہے۔

اس کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ پندرہ فیصد ہوکر وسائل کی پچاسی فیصد ہڑپتا رہتا ہے اور جو پچاسی فیصد عوامیہ ہوتی ہے جو اصل میں’’آدمیہ‘‘ ہوتی ہے اسے اپنی ہی کمائی میں سے پندرہ فیصد نہیں ملتا۔ظاہر ہے کہ ایسے میں صرف اشراف ہی منتخب ہوتے ہیں کہ انتخابات کے اخراجات یہی برداشت کرسکتے ہیں پچاسی فیصد عوامیہ میں اتنی سکت بھی نہیں ہوتی کہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکے تو انتخابات میں کیا کھڑے ہوں گے ؟ اور ان انتخابات میں جو منتخب ہوجاتے ہیں وہی’’منتخب جمہوری شہنشاہ‘‘ کہلاتے ہیں کیونکہ سب کچھ کے مالک وہی ہوتے ہیں فنڈز،ساری نوکریاں،سارے تبادلے سارے ٹھیکے ان کی جیب میں ہوجاتے ہیں۔

یوں کہیے کہ ان کی مرضی کے بغیر ان کے حلقے میں ایک پتا تک نہیں ہلتا ہے بلکہ کوئی کاغذ چاہے رنگین ہو یا بلیک اینڈ وائٹ اپنی جگہ سے انچ بھر حرکت بھی نہیں کرسکتا ان کی مرضی ہوتی ہے تو صرف ایک گھر کے لیے بھی دس میل سڑک بن سکتی ہے، دس میل میں بجلی دوڑائی جاسکتی ہے اور گیس پائپ لائن بچھائی جا سکتی۔

مرضی نہ ہوتی تو ایک اینٹ بھی کہیں ہلائی نہیں جاسکتی۔پرانے غیرجمہوری شہنشاہوں اور ان جمہوری شہنشاہوں میں فرق یہ ہے کہ وہ شہنشاہ ملک کو اپنی ملکیت سمجھتے تھے اور ایسا ہی خیال رکھتے جیسے کوئی اپنی ملکیت اپنی چیز کا خیال رکھتا ہے لیکن یہ نئے جمہوری شہنشاہ چند سالوں کے اجارہ دار ہوتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ جاتے جاتے کھیت میں ککھ بھی نہ چھوڑیں۔ہم نے دیکھا ہے بلکہ بھگتا بھی ہے کہ کوئی شخص مجبور ہوکر اپنی زمین کسی کو اجارے پر دیتا ہے پانچ دس سال کے لیے۔تو اجارہ دار پہلے تو زمین میں خوب کھاد ڈالتا ہے ہموار کرتا ہے زرخیز بناتا ہے بلکہ اکثر تو کناروں پر خالی جگہوں میں درخت بھی لگاتا ہے لیکن جب اجارے کی مدت ختم ہونے کو ہوتی ہے،کھاد وغیرہ بھی ڈالنا بند کردیتا ہے اور زمین میں آخری فصل ایسی بوتا ہے جو زمین کی رگ رگ سے توانائی چوس لیتی ہے جیسے جوار یا باجرہ یا کوئی ایسی فصل جو زمین کی حالت ایسی کردیتی ہے کہ آیندہ دوسال تک وہ کوئی فصل اگانے کے قابل بھی نہیں رہتی۔

اس کے بعد آنے والا یہی واویلا کرتا ہے کہ خزانہ خالی ہے سارے مسائل باقی ہیں۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تو یہ واویلا ضروری ہے کہ آخر وہ بھی تو منتخب ہوکر آتے ہیں کچھ ان کا بھی ’’حق‘‘ ہوتا ہے آخر وہ بھی تو منتخب شہنشاہ ہوتے ہیں۔ یہ تو جمہوری منتخب شہنشاہوں کا مختصر تعارف ہے کبھی کسی اور وقت اس کی تاریخ بھی بیان کروں گا۔ فی الحال ذرا جمہوری شاہی خاندانوں کا بھی ذکر ہوجائے، یہ شاہی جمہوری خاندان بھی ہوبہو خاندانی حکیموں جیسے ہیں۔ ان کالموں میں ہم نے کہیں آپ کو بتایا تھا کہ افغان مہاجرین کے ساتھ بہت سارے سکھ بھی افغانستان سے آگئے جن میں اکثر نے خاندانی حکیموں کا پیشہ اپناکر جگہ جگہ دکانیں کھول لی تھیں۔ہمارے گاؤں میں بھی دو بھائیوں نے خاندانی حکیم کی دکان کھولی دونوں ایک جیسی داڑھی ایک جیسی پگڑی ایک جیسے لباس میں آیا کرتے تھے۔

ہمیں آئیورویدک طب سے دلچسپی تھی سوچا یہ لوگ یقیناً آئیورویدک کی طب کے وید ہوں گے لیکن جب ان سے پوچھا تو ان کو نہ آئیورویدک کے بارے میں کچھ پتہ تھا بلکہ نام نہیں جانتے تھے، نہ یونانی طب کے بارے، نہ ہومیو پیتھک اور ایلوپیتھک سے واقف تھے۔

ہمارے سوال کے جواب میں وہ یہی کہتے کہ جی ہم خاندانی حکیم ہیں۔کافی دنوں میں ہمیں معلوم ہوا کہ وہ کسی بھی طب کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور اپنے خاندانی نسخے استعمال کرتے اور کئی پشتوں سے خاندانی حکیم چلے آرہے ہیں اور ہمارے یہ شاہی جمہوری خاندان بھی ایسے ہی شاہی جمہوری خاندان ہیں۔

البتہ ایک فرق ہے کہ خاندانی حکیموں کے پاس ’’مزار‘‘ نہیں ہوتے اور ان شاہی جمہوری خاندانوں کے پاس مزار بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ دیکھیے تو مسلم لیگ کے پاس بھی دو مزار ہیں۔پی پی پی کے پاس بھی دو مزار، جے یو آئی کے پاس مزار تو ابھی صرف ایک ہے لیکن حضرت مولانا بھی کچھ کم مرجع خلائق نہیں ہیں۔بانی کے پاس مزار تو نہیں ہے لیکن پیرنی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شاہی جمہوری خاندان جمہوری شہنشاہ کرتے ہیں ہوتے ہیں بھی نہیں ہوتی ہے ہے لیکن کے بارے ہیں اور کے پاس ہے اور بھی نہ

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا