بالی وُڈ لیجنڈ دھرمیندر نے 89 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت، اربوں روپے کی دولت چھوڑ گئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
بالی وُڈ کے مشہور اداکار دھرمیندر پیر کو 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دھرمیندر نے اپنی زندگی میں اربوں روپے کی دولت جمع کی، جو ان کی ذاتی کمائی، سرمایہ کاری، جائیدادوں اور کاروباری اثاثوں کو ملا کر تقریباً 335 کروڑ سے 450 کروڑ روپے کے درمیان تخمینہ لگائی جاتی ہے۔
دھرمیندر نے اپنی چھ دہائیوں پر محیط فلمی کیریئر میں صرف اداکاری ہی نہیں بلکہ مختلف کاروباری سرمایہ کاریوں سے بھی کافی دولت کمائی۔ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ فلموں، برانڈ اینڈورسمنٹس، اسٹوڈیو شیئرز اور رئیل اسٹیٹ جائیدادوں سے آیا۔ مالی نظم و ضبط اور دانش مندانہ سرمایہ کاریوں کی وجہ سے وہ فلم انڈسٹری کی کامیاب شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق دیول خاندان مجموعی طور پر 1000 کروڑ روپے سے زائد کا مالک ہے، جس میں سنی دیول، بوبی دیول اور خاندان کے دیگر افراد کے اثاثے شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیول فیملی بھارتی فلم انڈسٹری کے طاقتور اور بااثر خاندانوں میں شمار کی جاتی ہے۔
دھرمیندر کی وفات کے بعد ان کے اثاثے قانونی طریقے سے دونوں خاندانوں، یعنی پرکاش کور اور ہیمامالنی کے بچوں کے درمیان تقسیم ہونے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ دھرمیندر نے پہلی شادی 1954ء میں 19 سال کی عمر میں پرکاش کور سے کی، جس سے ان کے چار بچے سنی دیول، بوبی دیول، وجیتا دیول اور اجیتا دیول ہیں۔ دوسری شادی 1980ء میں اداکارہ ہیمامالنی سے ہوئی، جن کے ساتھ انہوں نے متعدد سپر ہٹ فلمیں بھی کیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔