وزارت داخلہ کے افسران کو غیر ملکی شخصیات سے ملاقات سے قبل پیشگی منظوری لینا لازمی قرار
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزارتِ داخلہ نے اپنے تمام ماتحت افسران کے لیے غیر ملکی شخصیات سے ملاقات سے قبل پیشگی منظوری لازمی قرار دے دی۔
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکلر کے مطابق کوئی بھی افسر سرکاری یا ذاتی دعوت قبول کرنے سے قبل سیکرٹری داخلہ کی منظوری حاصل کرے گا۔ اسی طرح غیر ملکی مشن، سفارت کاروں یا بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات سے قبل بھی اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے، اے این ایف اور اسلام آباد پولیس سمیت دیگر اداروں کو باضابطہ ہدایت نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پیشگی منظوری کے بغیر کسی غیر ملکی سے ملاقات یا بات چیت کو گورنمنٹ سرونٹ رولز کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق کسی بھی افسر کو ازخود غیر ملکی شخصیات سے رابطہ یا بات چیت کرنے کی اجازت نہیں۔ تمام متعلقہ محکموں اور افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
فوٹو: فائلکفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔