کراچی ایئرپورٹ سے مختلف ملکی و بین الاقوامی ایئرلائنز کی 12 پروازیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
تکنیکی اور آپریشنل وجوہات کے باعث کراچی ایئرپورٹ سے مختلف ملکی و بین الاقوامی ایئرلائنز کی 12 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ ترجمان کے مطابق پروازوں کی فہرست میں کراچی سے مسقط (اومان ایئر)کی پروازڈبلیو وائی 324، کراچی سے دبئی (ایمریٹس)کی پروازای کے 609، کراچی سے عدیس ابابا (ایئر پلن)کی پروازای ٹی 695، کراچی سے دبئی (ایئر بلیو)کی پروازپی اے 110، کراچی سے سکھر (سیرین ایئر)کی پروازای آر 560 ، کراچی سے اسلام آباد (ایئر سیال)کی پروازیںپی ایف 125 اور 123 منسوخ کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ کراچی سے لاہور (ایئر سیال)کی پروازیں پی ایف 145 اور 143 ، کراچی سے سیالکوٹ (ایئر سیال )کی پرواز پی ایف 135 ، کراچی سے لاہور (PIA) کی پروازپی کے 306 ،کراچی سے کوئٹہ (PIA) کی پرواز پی کے 310 شامل ہیں۔ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ مسافروں کو متبادل پروازوں یا رقم کی واپسی سے متعلق آگاہ کیا جا رہا ہے۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر سے قبل ایئرلائن سے اپنی پرواز کی تازہ ترین صورتحال ضرور چیک کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کراچی سے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔