Express News:
2026-07-24@07:29:32 GMT

غزہ کا رنگ تاحدِ نگاہ مٹیالا ہے

اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT

قاسم ولید ڈاکٹر ہیں اور غزہ میں ہی دو برس سے دربدر ہیں۔قاسم نے چند دن پہلے ان دو برسوں کا احوال یوں تصویر کیا۔

’’ جب اسرائیل نے سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے حملے کا بدلہ لینے کی کارروائی شروع کی تو ہم جانتے تھے کہ یہ وقت گذشتہ تمام ادوار سے زیادہ کڑا ہوگا۔مگر کسی کے تصور میں نہیں تھا کہ یہ دو برس پر محیط ہو جائے گا اور دنیا اسے ٹالنے کے لیے کچھ بھی نہیں کرے گی۔

 غزہ پر دو ہزار چودہ کا اسرائیلی حملہ اکیاون دن جاری رہا۔تب لگتا تھا کہ یہ اکیاون دن نہیں اکیاون برس ہیں۔مگر پچھلے دو برس سے جو ہورہا ہے اس کے آگے تو دو ہزار چودہ کی کارروائی محض پلک جھپکنے کے برابر مدت لگتی ہے۔

شروع کے دنوں میں مجھے محسوس ہوتا تھا کہ نسل کشی کی خون آشام پیاس ال اہلی اسپتال پر ہونے والے اسرائیلی میزائل حملے میں سیکڑوں لوگوں کی ہلاکت سے شائد بجھ جائے ، یا پھر غزہ کے سب سے بڑے الشفا اسپتال کو کھنڈر بنانے کے بعد معاملہ تھم جائے ، یا پورے رفاہ شہر کو ملبے میں بدل کے کچھ تسلی ہو جائے ، یا پھر شمالی غزہ کو ملیامیٹ کرنے سے اسرائیلی انتقام کی حسرت کو قرار آ جائے۔

مگر اس سال جنوری میں ہونے والی عارضی جنگ بندی بھی سراب نکلی۔یہ جنگ بندی اسرائیل کی جانب سے یکطرفہ طور پر توڑے جانے کے بعد غذائی ناکہ بندی ، فاقوں سے موت اور نسل کشی کا اگلا باب کھل گیا تو یوں لگا کہ رواں برس کے مقابلے میں گذرا سال قدرے غنیمت تھا۔گذشتہ برس سات اکتوبر کی پہلی برسی کے موقع پر میں خان یونس میں پناہ گیر تھا کہ اچانک المواسی کی ’’ محفوظ پٹی ‘‘ کی جانب ایک اور ہجرت کا فوجی فرمان جاری ہو گیا اور ہزاروں لوگ ایک بار پھر اٹھ کے چل پڑے۔

ہم آج بھی ایک اور جنگ بندی کے بعد المواسی کے ایک خیمے میں بھوک کات رہے ہیں۔پچھلے آٹھ ماہ میں صرف موت اور تباہی کے پنجے ہی دراز نہیں ہوئے بلکہ اسرائیل نے نت نئے انہونے پھندے اور جال ہمارے سامنے بچھا دیے تاکہ ہم اپنی پسند کی موت کا آزادی و آسانی سے انتخاب کر سکیں۔

دو مارچ کو جب اسرائیل نے ہم پر دانہ پانی مکمل بند کر دیا اور ساتھ ہی بھوکے لوگوں پر مسلسل بم برسنے لگے تو ہم نے سوچا کہ شائد یہ ابلیسیت کی آخری حد ہے۔مگر ہم غلط تھے۔غذائی ناکہ بندی تو محض ایک نئے کھیل کا آغاز تھا۔

یہ کھیل مئی میں غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے اسٹیج پر شروع ہوا۔جہاں خوراک دینے کے نام پر فلمی کے بجائے اصلی ’’ ہنگر گیم ‘‘ کھیلی گئی۔شکاری شکار کی جانب خوراک کے چند ڈبے پھینکتے تھے۔چھینا جھپٹی سے محظوظ ہوتے تھے اور جب اکتانے لگتے تو چن چن کے نشانے باندھتے اور شکار کے ٹھنڈا ہونے تک اس کے تڑپنے سے لطف کشید کرتے۔

جب بھوک سے بڑی تعداد میں بچوں کے مرنے کی خبر دنیا میں پھیلنے لگی تو اسرائیلیوں نے ایک اور گیم شروع کر دی۔غذائی امداد سے بھرے کمرشل ٹرک غزہ میں داخل ہونے دیے گئے۔ان پر لدے پھلوں اور سبزیوں کی نمائش کر کے یہ تاثر دیا گیا کہ غزہ میں بھک مری محض اسرائیل دشمن پروپیگنڈہ ہے۔مگر ان اشیا کی قیمتیں اس قدر زیادہ تھیں کہ پتھرائی آنکھوں والے بچے اور ان کی مائیں محض انھیں دور سے دیکھ سکتے تھے۔چھو بھی نہیں سکتے تھے۔

جب اسرائیل نے غزہ شہر فتح کرنے کے لیے دو ہفتے قبل بھرپور فوج کشی کی تو نسل کشی میں تیزی کے لیے بڑی بڑی متروک فوجی گاڑیوں میں ٹنوں بارود بھر کے رہائشی عمارات کے عین نیچے کھڑا کر کے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے یہ بارودی گاڑیاں پھاڑ دی جاتیں۔یوں محلے کے محلے چشمِ زدن میں مکینوں سمیت تحلیل ہو گئے۔

ادیب اور نقاد ٹی ایس ایلیٹ لکھتا ہے کہ انسان بہت زیادہ حقیقت بھی برداشت نہیں کر سکتا۔مگر ہم تو دو برس سے ہر آن ناقابلِ برداشت خالص حقیقی عذاب سے گذر رہے ہیں۔جتنا قتلِ عام ان آنکھوں نے دیکھا اس سے زیادہ وہ ہے جو یہ آنکھیں نہیں دیکھ سکیں۔

میرے دوست جواں سال ادیب محمد حامو سمیت اس کے خاندان کے تمام دو سو افراد مار ڈالے گئے۔یا وہ ایک سو بارہ بھوکے لوگ جو آٹے کی قطار میں تھے اور پھر اس قطار میں کوئی زندہ نہ بچا۔اٹھارہ مارچ کا دن بھی شائد تاریخ کے کسی پنے پر محفوظ ہو جائے جب ایک سو بچوں سمیت ایک ہی دن میں چار سو سے زائد انسان لاشیں بن گئے۔

اور وہ پندرہ طبی رضاکار کیسے بھلائے جائیں گے جن کی امدادی ایمبولینسیں رفاہ کے قریب ویرانے میں روک کے ایک ایک کے سر میں گولی ماری گئی۔غزہ کے سویلینز اور دہشت گرد میں کوئی تمیز نہیں بچی۔محفوظ اور غیر محفوظ علاقوں کی اصطلاح نے بہت پہلے ہی دم توڑ دیا۔ڈاکٹر اور مریض ، صحافی و عینی شاہد ، استاد اور شاگرد ، عورت اور پیٹ میں موجود بچہ سب کے سب نشانے پر ہیں ، سب دہشت گرد ہیں۔زندگی کے معنی بس یہ رہ گئے کہ ہر آن ہر طرف سے ہرقسم کی برستی موت سے لمحہ بہ لمحہ کیسے بچنا اور بچانا ہے۔

میں اور میرا خاندان تو صرف نو بار اجڑے ہیں۔ ایسے ہزاروں خاندان ہیں جو غزہ کے پنجرے میں بیس بیس بار ایک سے دوسری جگہ نقل مکانی پر مجبور کیے گئے۔جہاں بھی رکتے سورج کی تمازت اور تیز ہوا سے بچنے کے لیے دو چادریں تان کے ایک تصوراتی گھر بنا لیتے۔بیت الخلا کے نام پر گڑھا کھود لیتے اور پھر حکم ملتا کہ یہاں سے کہیں اور چلے جاؤ۔یہ ’’ کہیں اور کا حکم ‘‘ بھی کب کا معنی کھو چکا ہے۔

آپ کے لیے غزہ شائد ایک ریتیلی ساحلی پٹی ہے کیونکہ آپ نے اس کے بارے میں بس یہی سنا ہے۔اسے دیکھا نہیں ۔غزہ شہر میں بلند و بالا عمارتیں تھیں ، انسانی چہل پہل سے لبریز بازار تھے ، مسکراتی یونیورسٹیاں تھیں ، ماضی کو حال سے جوڑنے والے سیکڑوں برس پرانے ضعیف گھر ، گرجے اور مساجد تھیں۔

غزہ کے مضافات میں بیت ہنون اور بیت لاہیا کی وضع قطع دہقانی اور ہرے بھرے کھیت تھے۔جنوب میں خان یونس اور رفاہ شہر کے چاروں طرف پھل دار باغات اور زیتون کے ہزاروں درخت تھے۔جبالیہ ، بریج اور خان یونس اسی برس پرانے فلسطین کا نمونہ تھے۔وہ تاریخی فلسطین جہاں سے انیس سو اڑتالیس کے نقبہ میں ہجرت کرنے والوں اور ان کے بچوں اور پھر ان کے پوتوں نواسوں نے ان کیمپوں کو بھی شاندار ماضی سے ایسے جوڑے رکھا جیسے آئینے کے مقابل ایک اور آئینہ رکھ دیا جائے۔

 اب ایک ہی رنگ بچا ہے زندگی کا اور وہ ہے مٹیالا۔ملبہ سرخ ، سفید ، سبز ، نیلا نہیں ہوتا بس مٹیالا ہوتا ہے اور یہ رنگ تاحدِ نگاہ ہے۔اس ملبے میں کبھی کوئی خود رو کونپل پھوٹ پڑے تو ہم آنکھیں مل مل کے دیکھتے ہیں کہ یہ سبزہ کہاں سے اترا۔

آپ کو تو سہولت ہے کہ تباہی کے مناظر ٹی وی اسکرین یا موبائیل فون پر دیکھتے دیکھتے ناقابلِ برداشت ہو جائیں تو چینل بدل لیں یا موبائیل سکرول کر لیں۔ہمیں تو یہ منظر مسلسل دیکھنا ہی نہیں اس میں رہنا بھی ہے۔

ہم نے ان دو برسوں میں سہانے خواب دیکھنے بھی معطل کر دیے ہیں۔تعبیر کے تعاقب کی سکت جو نہیں رہی۔مگر ایک امید ہے کہ بہت ہی ڈھیٹ نکلی۔خاک اور خون سے اٹنے کے بعد بھی کمینی پیچھا ہی نہیں چھوڑتی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیل نے ایک اور غزہ کے کے بعد تھا کہ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر