data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251014-08-9
کراچی (اسٹاف رپورٹر) حلقہ خواتین جماعت اسلامی صوبہ سندھ کی ناظمہ رخشندہ منیب نے کہاہے کہ جماعت اسلامی کے قیام کا مقصد اقامت دین ہے، اور اسی مشن کے تحت ہم سب اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کے نفاذ کی جدوجہد کر رہے ہیں۔یہ بات انہوں نے بدین ، سانگھڑ اور نواب شاہ کے اضلاع کا تنظیمی دورے کے موقع پر اجتماعاتِ ناظمات و کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ نائب ناظمہ شگفتہ ابراہیم اور نوشین عرفان بھی ان کے ساتھ موجود تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی انتخابی سیاست میں حصہ اس لیے لیتی ہے تاکہ اقتدار کے ذریعے اسلامی نظام کو عملاً نافذ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ رکنیت ایک سعادت اور جماعت کا ستون ہے، رکن اور کارکن دونوں ہی اقامتِ دین کے سفر کے ساتھی ہیں، فرق صرف تربیت اور ذمہ داری کے مرحلے کا ہوتا ہے۔نائب ناظمہ صوبہ سندھ شگفتہ ابرہیم نے اپنے خطاب میں اخلاقیات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایمان کی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دل اور زبان اللہ کی تعلیمات کے مطابق نہ ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کا بڑا حصہ اخلاقیات پر مبنی ہے کیونکہ اسلام ایک ایسا معاشرہ چاہتا ہے جہاں دلوں میں محبت اور خیرخواہی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں طنز، تمسخر، کینہ اور بہتان جیسے منفی رویوں کے لیے سخت وعید آئی ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی