کسانوں کا معاشی قتل اور ناجائز کٹوتی بند کی جائے ‘ کاشف سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251014-08-24
کندھ کوٹ(نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی کسان بورڈ کے تحت صوبائی امیر کاشف سعید شیخ کی قیادت میں دھان کے کسانوں کے ساتھ ناانصافی، قیمتوں میں کمی اور غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف پیر کو گھنٹہ گھر سے حقوق کسان ریلی نکالی گئی۔ جس میں کسانوں اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء تپتی دھوپ شدید گرمی کے باوجود ڈی سی آفس کے سامنے دھرنا دیکر بیٹھ گئے اور ’’کسانوں کو ان کا حق دو، دھان کی قیمت دوکسانوں کا معاشی استصال بند کرو‘‘ کے نعرے لگائے۔ امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو کسان کارڈ نہیں بلکہ ان کو دھان سمیت اپنی فصلوں کی مناسب قیمت دی جائے۔ بیوپاریوں اور مل مالکان نے ملی بھگت سے 32سو سے کم کرکے دھان کی قیمت فی من 22سو روپے کردی ہے۔ نمی کا بھانہ بناکر چار سے سات کلو دھان کے فی من پر کٹوتی الگ کی جا رہی ہے جو کہ غریب کسانوں کے ساتھ ظلم ہے۔ کسانوں کا معاشی قتل بند کیا جائے۔صوبائی امیر نے اعلان کیا آئندہ اتوار کو کسانوں کے ساتھ ہونے والی نانصافیوں کے خلاف سندھ بھر میں پریس کلب اورڈی سی آفس کے سامنے دھرنے دیء جائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے ساتھ ناانصافی ختم کی جائے اور دھان کی قیمت کم از کم 4 ہزار روپے امدادی قیمت مقرر کرکے حکومت عملدرآمد یقینی اور سرکاری خریداری کے مراکز قائم کئے جائیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ بھر کے کسان اور زمیندار پانی کی قلت، کھاد کی بلیک مارکیٹ میں فروخت، مہنگے بیج اور ادویات کی قلت کے خلاف گزشتہ کئی روز سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں لیکن گونگے بہرے حکمران کوئی دھیان نہیں دے رہے۔ بڑے سرمایہ دار اور مل مالکان کسانوں کی اگائی ہوئی ہر فصل کو کٹائی ہوتے ہی سستے داموں خریدتے ہیں۔ جہاں سرمایہ دار اور صنعت کار اپنی تیار کردہ اشیاء، چاول، چینی، آٹا، گھی، تیل دوگنی قیمتوں پر بیچ کر ارب پتی بن چکے ہیں، وہیں کسان آج بھی بھوک اور افلاس کا شکار ہیں۔ اس وقت سرمایہ داروں، برآمد کنندگان اور رائس ملرز نے مل کر دھان کی قیمتوں میں کمی کی ہے لیکن ایک ماہ بعد جب سرمایہ داروں کے گوداموں میں یہ ذخیرہ ہوں گی تو قیمت چار ہزار سے بھی بڑھ جائے گی۔ کسانوں کو آپ کے کسان کارڈ کی ضرورت نہیں ہے، صرف زراعت سے دشمنی ختم کریں اور انہیں ان کی فصلوں کی صحیح قیمت دیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ زمیندار اپنی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں اور دوا ساز کمپنیاں اے سی گاڑیوں میں گھوم رہی ہیں۔ گزشتہ 15 سال سے سندھ کے کسانوں کو گنے، گندم اور ساڑھیوں کی مناسب قیمت نہیں مل رہی۔ سندھ کے کسانوں اور کاشتکاروں کے خلاف کارخانوں، سیٹھوں اور حکومت کی ملی بھگت سے زراعت تباہ ہو چکی ہے۔ سندھ حکومت بھی اس ظلم میں برابر کی شریک ہے کیونکہ سندھ کے وزیر اور مشیر مافیاز اور سیٹھوں کے ساتھ مل کر ہیں۔ کاشف سعید شیخ نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ کسانوں اور کاشتکاروں کو گندم، کپاس، گنے، سورج مکھی سمیت نقد آور فصلوں کی منصفانہ قیمتیں دی جائیں اور ٹیکس، لیویز اور قرضوں کے ٹیکس معاف کیے جائیں، ساتھ ہی دیگر چارجز اور زرعی قرض بھی معاف کیے جائیں۔ بیج، کیمیائی کھاد اور ڈیزل کی قیمتوں میں رعایت دی جائے۔ چھوٹے کسانوں کو ٹریکٹر اور زرعی آلات آدھی قیمت پر دیے جائیں۔ زرعی بیجوں کی بہتر قیمت پر دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ چھوٹے کسان اور کسان دکانداروں سے مہنگے داموں زرعی بیج خریدنے سے بچ سکیں۔ اس موقع پر سندھ کے نائب امیر حافظ نصر اللہ چنا، ڈپٹی جنرل سیکرٹری امداد اللہ بجارانی، ضلعی امیر غلام مصطفی میرانی اور کسان بورڈ کے رہنما استاد حفیظ اللہ بلوچ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کسانوں کے ساتھ کاشف سعید شیخ دھان کی قیمت کسانوں کو سندھ کے کے خلاف کے کسان
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔