میرٹھ میں آٹھ کروڑ مالیت کا بیل ’ودھایک‘ کسانوں اور شائقین کی توجہ کا محور بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں منعقد ہونے والے تین روزہ “آل انڈیا فارمرز فیئر” میں ایک ایسے بیل نے دھوم مچادی جس کی قیمت سن کر ہر شخص حیران رہ گیا۔ آٹھ کروڑ بھارتی روپے، یعنی تقریباً 25 کروڑ پاکستانی روپے مالیت کے اس نایاب بیل نے پورے میلے کا مرکزِ نگاہ بن کر رکھ دیا۔
کالے رنگ اور غیر معمولی جسامت والے اس بیل کا نام ’ودھایک‘ ہے، جو نہ صرف اپنی طاقتور ساخت بلکہ شاہانہ انداز کے باعث دور دور سے آئے کسانوں اور جانور پالنے کے شوقین افراد کے لیے کشش کا باعث بنا ہوا تھا۔ جیسے ہی ودھایک میلے کے احاطے میں داخل ہوا، لوگوں کا ہجوم اس کے اردگرد جمع ہوگیا، موبائل کیمروں نے گھیر لیا اور تالیوں کی گونج سے فضا گونج اٹھی۔
ودھایک کے مالک نریندرا سنگھ جو بھارت کے معروف جانور پرور اور پدما شری ایوارڈ یافتہ شخصیت ہیں کا تعلق ہریانہ سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ودھایک اپنے نام کی طرح ایک باوقار اور اثر انگیز شخصیت رکھتا ہے، اس کی نسل مراہ ہے جو اپنی طاقت، صحت اور نایاب خصوصیات کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔
میلے میں بھارت کی مختلف ریاستوں، جن میں ہریانہ، پنجاب، دہلی، راجستھان، مدھیہ پردیش اور اترکھنڈ شامل ہیں، سے درجنوں کسان اپنے بہترین مویشیوں کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ لیکن نریندرا سنگھ کے اس شاہکار بیل نے اپنی شان و شوکت سے تمام جانوروں کو پسِ منظر میں دھکیل دیا۔
فارمرز فیئر کے منتظمین کے مطابق، ودھایک کی خوراک، دیکھ بھال اور تربیت پر سالانہ لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ روزانہ اسے دودھ، خشک میوہ جات اور خاص غذائیں دی جاتی ہیں جبکہ اس کی فٹنس کے لیے الگ تربیتی شیڈول رکھا جاتا ہے۔
میلے میں شریک کسانوں کا کہنا تھا کہ ایسے جانور بھارت میں مویشی پروری کے شعبے کی ترقی اور مقامی نسلوں کی بہتری کی علامت ہیں۔ ودھایک نہ صرف اپنی قیمت بلکہ اپنے وقار اور دلکشی کے باعث بھی “میلے کا اصل ستارہ” ثابت ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔