سعودی انٹرنیشنل باز و شکار میلہ اختتام پذیر: 7 ملین ریال کے باز نیلام
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
سعودی انٹرنیشنل باز و شکار میلہ 2025 ریاض کے شمالی علاقے (ملہم) میں شاندار کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا، جہاں 10 دنوں کے دوران 7 لاکھ سے زیادہ زائرین نے شرکت کی، جو اس میلے کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔
میلے میں 47 ممالک سے 1400 سے زیادہ نمائش کنندگان اور عالمی برانڈز نے حصہ لیا اور 28 شعبوں میں متنوع تجربات، مصنوعات اور ثقافتی ورثے کی جھلکیاں پیش کیں۔
یہ بھی پڑھیں: مدینہ منورہ: وژن 2030 کے تحت بہترین اقدامات، زائرین کے قیام کے دورانیے میں دوگنا اضافہ
سعودی فالکن کلب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) طلال بن عبدالعزیز الشمیسی نے مملکت کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ یہ میلہ اب محض ایک سالانہ تقریب نہیں رہا، بلکہ ایک عالمی پلیٹ فارم بن چکا ہے جو سعودی ثقافت، معیشت اور سیاحت کے پہلوؤں کو یکجا کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ اس ایونٹ نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر فالکنری، شکار اور صحرا کی روایتی مشغولیات کے شوقین افراد کو ایک مقام پر جمع کردیا۔
اس سال کے میلے میں منگولیائی اور مقامی بازوں کی نیلامی ہوئی، جس کی مجموعی فروخت 7 ملین ریال تک پہنچی، اس کے علاوہ اونٹوں کی نیلامی بھی خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔
علاوہ ازیں منگولیائی فالکن ایریا، چائنیز پویلین، سالوکی میوزیم، نجران ورثہ زون، سفاری ایریا، صقار گاؤں اور فالکنری فیشن ایریا جیسی نئی سرگرمیوں نے شرکا کو منفرد تجربہ فراہم کیا۔
میلے میں 23 ثقافتی و تفریحی سرگرمیاں شامل تھیں، جن میں سعودی عرضہ رقص، فالکن اور گھوڑوں کے مظاہرے، شوٹنگ مقابلے، اونٹ سواری، مصوری و دستکاری ورکشاپس اور ملواح ریس شامل تھی جس میں 60 فاتحین نے حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں بین الاقوامی باز اور شکار کی نمائش 2025 کا آغاز، 45 ملکوں کے 1300 سے زائد نمائندوں کی شرکت
یہ ایونٹ شاہ سلمان رائل ریزرو ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی اسٹریٹیجک سرپرستی میں منعقد ہوا، جو مملکت کے ثقافتی ورثے کے ایونٹس کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews باز نیلام باز و شکار میلہ ریاض سعودی عرب وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: باز نیلام باز و شکار میلہ ریاض وی نیوز
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔