اماراتی سفیر کی وزیر خزانہ سے ملاقات، شراکت داری مستحکم بنانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251128-01-2
اسلام آباد (مانیٹر نگ ڈ یسک ) متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے پاکستان کیلیے تعینات نئے سفیر سالم الزعابی نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کی ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک معاشی شراکت داری مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزارت خزانہ کے اعلامیے میں بتایا گیا کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یو اے ای کی بندرگاہوں، ڈیجیٹل بینکنگ اور لاجسٹکس میں سرمایہ کاری کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ پاکستان یو اے ای کیساتھ برادرانہ معاشی تعاون بڑھانے کیلیے پر عزم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی ٹی، اے آئی، فِن ٹیک، زراعت اور معدنیات میں بڑے مواقع موجود ہیں، سفری سہولیات سے دونوں ممالک کے درمیان کاروباری تعلقات مضبوط ہوں گے، دفاعی تعاون اور تربیتی تبادلوں میں بھی مزید اضافہ کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔