میرپور خاص: مین پوری فیکٹری کے مالک ظفر کی منشیات کھلے عام بکنے لگی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص (نمائندہ جسارت)مین پوری فیکٹری مالک کنگ ظفر خاصخیلی پولیس سرپرستی میں شہر بھر میں کھلے عام منشیات فروخت کرنے لگا ٹیمیں بے بس۔ تفصیلات کے مطابق میرپورخاص میں ظفر خاصخیلی کو کھلی چھوٹ محمود آباد تھانے کی حد میں منتلی انچارجوں کی سر پرستی میں مین پوری فیکٹری سے روزانہ کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر سٹی سب ڈویژن کے تھانوں سٹی تھانہ۔مہران تھانہ غریب آباد تھانے کے ساتھ سٹلائٹ ٹاؤن تھانے کی حد میں ظفر خاصخیلی مین پوری فیکٹری سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں مضر صحت نشہ اور مین پوری اپنے سیلزمینوں کے زریعے کھلے عام کٹھوں میں سپلائی جاری رکھا ہوا ہے زرائع کے مطابق ظفر خاصخیلی مین پوری فیکٹری مالک تھانہ سمیت تمام منتلی انچارجوں کو اپنی جیب میں رکھتا ہے جبکہ تمام منتلی انچارج ظفر خاصخیلی کو مکمل سپورٹ کے ساتھ چھاپے سے قبل پیشگی اطلاع کے ساتھ مکمل سہولت کاری پیش کرتے ہیں شہری حلقوں نے آئی جی سندھ ٹیم ڈی آئی جی میرپورخاص ٹیم اور ایس ایس پی میرپورخاص گنگ منشیات فروش ظفر خاصخیلی کے خلاف موثر کاروائی عمل میں لائے اور محمود باد تھانے کی حد میں قائم مین پوری فیکٹری کو ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مین پوری فیکٹری ظفر خاصخیلی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔