سیلابی تباہی سے بچنے کیلیے صرف 200 دن ہیں‘میاں زاہد حسین
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچوئلزفورم اورآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان وپالیسی ایڈوائزری بورڈ ایف پی سی سی آئی کے چیئرمین اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ 2026 کی مون سون سے متعلق پیش گوئیاں تشویش ناک ہیں یہ محض ماحولیاتی چیلنج نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی بقا کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ میاں زاہد حسین نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور وزارت موسمیاتی تبدیلی کے انتباہ کہ رواں سال کے مقابلے میں آئندہ مون سون 22 سے 26 فیصد زیادہ شدت کے ساتھ متوقع ہے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک ابھی تک گزشتہ سیلابوں کے منفی معاشی اثرات سے باہرنہیں آیا، ہم 3 سے 4 فیصد شرحِ نموکے لیے جدوجہد کررہے ہیں جبکہ آمدہ موسمیاتی آفات جی ڈی پی کے 9 فیصد تک نقصان پہنچا سکتی ہیں جس سے شرح نمو منفی پانچ فیصد ہو سکتی ہے اور یہ خسارہ کسی بیرونی قرض سے پورا نہیں ہوسکتا۔میاں زاہد حسین نے وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے 2026 کی مون سون تیاریوں کے ابھی سے آغازکی ہدایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ احکامات تبھی مؤثرہوں گے جب زمینی سطح پرعملی اقدامات دکھائی دیں اور تیاریوں کا مطلب صرف خیمے، دوائیاں اورراشن جمع کرنا نہیں، بلکہ سائنٹیفک بنیادوں پر اقدامات اور سیلابوں سے محفوظ مضبوط انفراسٹرکچر کی تعمیرناگزیرہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس مون سون 2026 کے لیے صرف 200 دن کی مہلت ہے۔ اس مہلت کوبروئے کارلاتے ہوئے دیہی، شہری اور صنعتی علاقوں میں نکاسیِ آب کے تمام راستوں اور نالوں کی فوری صفائی، پنجاب اورسندھ میں دریاو?ں کے پشتوں کی مضبوطی، اور شمالی علاقوں میں بڑھتی ہوئی گلیشیائی جھیلوں کے ممکنہ شگافوں (GLOFs) سے نمٹنے کے لیے سپل ویزکی معیاری تعمیر انتہائی ضروری ہے۔میاں زاہد حسین نے واضح کیا کہ انے والے مونسون سیملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زرعی شعبہ شدید خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اہم نقد آورفصل کپاس مسلسل غیرمعمولی موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار ہورہی ہے۔ اگرکسان تباہ ہوگا توصنعت بھی تباہ ہو جائے گی جس سے برامدات بھی متاثر ہوں گی۔ انہوں نے وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی سے کہا ہے کہ فوری طورپرسیلاب برداشت کرنے والی بیج اقسام متعارف کرائی جائیں اورکسانوں کوبدلتے ہوئے موسمیاتی مسائل سے متعلق آگاہی دی جائے۔میاں زاہد حسین نے موسمیاتی فنڈزکے شفاف اور موثر استعمال کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ریزیلینس پلان پرنجی شعبے کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ صنعتی علاقوں کو بارشوں کے سیلاب سے محفوظ بنایا جا سکے جس سے خاص طور پر کراچی کی صنعتیں عارضی طور پرمعطل ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بارش کوروکنا ہمارے بس میں نہیں، مگر سستی کرپشن اور بد انتظامی کوضرورروکا جا سکتا ہے انہوں نے حکومت کوباورکرایا کہ کاروباری برادری اس قومی مقصد میں بھرپورتعاون کے لیے تیارہے تاہم اس کے لیے جامع، واضح اوروقت کے پابند لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی تیزہورہی ہے لہٰذا ہماری قومی تیاری بھی اسی رفتارسے بڑھنی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میاں زاہد حسین نے انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔