وائٹ ہاؤس نے کولمبس ڈے کے موقع پر جاری بیان میں کرسٹوفر کولمبس کو ’امریکی ہیرو‘ قرار دیتے ہوئے ان کے حوصلے، ایمان اور عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا مسلمان کرسٹوفر کولمبس سے پہلے امریکا پہنچ گئے تھے؟  

بیان میں کہا گیا کہ ہم کولمبس کے غیر معمولی ورثے کو اُن بائیں بازو کے عناصر سے واپس لینے کا عزم کرتے ہیں جو اُن کی یاد کو مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا کی تقریباً 10 ریاستیں کولمبس ڈے کو ’انڈیجینس پیپلز ڈے‘ یا دیگر ناموں سے مناتی ہیں، کیونکہ کولمبس کبھی شمالی امریکا نہیں پہنچے تھے بلکہ 1492 میں بہاماز میں اترے تھے۔

تاریخی طور پر کولمبس پر مقامی باشندوں کو غلام بنانے اور ان پر ظلم کے الزامات بھی عائد ہیں، جن کے باعث اسپین کے بادشاہ نے بعد میں ان سے گورنر شپ واپس لے لی تھی۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ 500 سال بعد بھی ہم کولمبس کے عزم اور حوصلے سے سبق لیتے ہیں اور اپنے قومی ورثے کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا شمالی امریکا کرسٹوفر کولمبس کولمبس ڈے وائٹ ہاؤس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا شمالی امریکا کولمبس ڈے وائٹ ہاؤس

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ناتمام (آخری قسط)
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان