ایل آر بی ٹی کا مفت آنکھوں کے کیمپ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ ہاؤس میں عالمی بینائی کے دن کی مناسبت سے ایل آر بی ٹی نے مفت آنکھوں کا کیمپ منعقد کیا ہے۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق آنکھوں کے کیمپ کا افتتاح سیکریٹری ٹو سی ایم عبدالرحیم شیخ نے کیا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے افسران اور ملازمین کی بڑی تعداد میں شرکت، ترجمان وزیراعلیٰ سندھ
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آنکھوں کی حفاظت اور بروقت معائنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ آنکھیں قدرت کی ایک انمول نعمت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آنکھوں کی صحت کے حوالے سے عوام میں آگاہی پیدا کرنا خوش آئند اقدام ہے۔ سندھ حکومت عوامی صحت کے منصوبوں میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ بینائی کی حفاظت کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آنکھوں کی صحت کو نظرانداز کرنا اپنی زندگی کو دھندلا دینے کے مترادف ہے۔ عوامی آگاہی مہمات صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں۔
سیکریٹری عبدالرحیم شیخ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر ’روشن نظر، روشن مستقبل‘ کے عنوان سے آنکھوں کا کیمپ منعقد کیا گیا ہے۔ ایل آر بی ٹی کا بینائی کی بحالی میں نمایاں کردار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔