غزہ امن معاہدے کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف کی زبردست پذیرائی
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان کی غزہ امن معاہدہ کے موقع پر زبردست پذیرائی کی گئی جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر کے دوران ان کے کردار پر شکریہ ادا کرتے ہوئے شہباز شریف کو پوڈیم پر آنے کی دعوت دی۔
اپنے خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ ”میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، مجھے یہ کہنا ہے کہ میرے پسندیدہ پاکستان کے فیلڈ مارشل جو یہاں موجود نہیں ہیں لیکن وزیراعظم شہباز شریف یہاں ہیں“۔
اس کے بعد امریکی صدر نے شہباز شریف کو پوڈیم پر آنے کی دعوت دی، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج کا دن جدید تاریخ کے عظیم ترین دنوں میں سے ایک ہے کیونکہ آج انتھک کوششوں کے بعد امن حاصل کرلیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس کی قیادت صدر ٹرمپ نے کی جو واقعی ایک امن پسند شخص ہیں اور جنہوں نے گزشتہ مہینوں کے دوران دن رات محنت کی تاکہ اس دنیا کو امن اور خوشحالی کا گہوارہ بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لئے نامزد کیا تھا، ان کی غیر معمولی خدمات کے باعث جن کی بدولت پہلے انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ رک گئی اور پھر فائر بندی ممکن ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اور آج ایک بار پھر میں اس عظیم صدر کو نوبیل امن انعام کے لئے نامزد کرنا چاہوں گا کیونکہ میں دل سے سمجھتا ہوں کہ وہ امن کے لئے سب سے مخلص اور بہترین امیدوار ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ وہ نہ صرف جنوبی اور مشرقی ایشیاء میں امن لانے بلکہ لاکھوں جانیں بچانے اور آج غزہ میں امن حاصل کیا جو مشرق وسطیٰ میں بھی لاکھوں زندگیاں بچانے کے مترادف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شہباز شریف نے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔