data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت سندھ و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو صحت، تعلیم اور روزگار فراہم کرے اور خصوصی افراد کے لئے ان سہولیات کی فراہمی کی ذمہ داری اس سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ خصوصی افراد کے لئے پاکستان کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں ایسا شہر نہیں ہوگا جو سندھ حکومت شارع بھٹو کے ساتھ 80 ایکڑ پر بنانے جارہی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹرز اپنا کاروبار کرنے آتے ہیں اس لئے ہم ان پر یہ دبائو تو نہیں ڈال سکتے کہ وہ خصوصی افراد کا اپنے کاروبار بھی سرکاری طرح کا کوئی مختص کریں لیکن خصوصی افراد اپنے اندر اتنی صلاحیت پیدا کریں کہ پرائیویٹ سیکٹرز خود ان کو ملازمتیں دینے پر مجبور ہوجائیں۔ سندھ حکومت خصوصی افراد کے لئے جو کچھ بھی کررہی ہے وہ پیپلز پارٹی کے منشور، چیئرمین بلاول بھٹو، آصف علی زرداری اور وزیر اعلٰی سندھ کے وڑن کے تحت کررہی ہے اور یہ کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز “پاکستان ایسوسی ایشن آف بلائینڈ (سندھ) کے تحت بصارت سے محروم افراد کے عالمی دن کے موقع پر “سفید چھری کی حفاظت” کی مناسبت سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ بصارت سے محروم افراد میں معاون آلات کی تقسیم کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے ایسوسی ایشن کے صدر مظفر علی قریشی، عبدالجبار میرانی، فرمان احمد، عمران شیخ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے ایسوسی ایشن کے صوبے بھر کے 19 سینٹرز میںبصارت سے محروم افراد میں معاون آلات کی تقسیم کئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ مجھے ذاتی طور پر اس طرح کی تقریبات میں شرکت کرکے دلی خوشی ہوتی ہے جہاں معاشرے کے خصوصی افراد شریک ہوتے ہیں جو عام انسان کی نسبت اللہ تعالٰی کی مصلحت پر کسی نہ کسی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس یہ بھی حقیقت ہے کہ اس طرح کے خصوصی افراد جو عام افراد کی نسبت کسی کمی کا شکار ہوتے ہیں اللہ تعالٰی نے ان میں کوئی ایک ایسی صلاحیت ضرور رکھی ہوتی ہے، جو عام افراد میں نہیں ہوتی۔ سعید غنی نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو صحت، تعلیم اور روزگار فراہم کرے اور خصوصی افراد کے لئے ان سہولیات کی فراہمی کی ذمہ داری اس سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ خصوصی افراد کے لئے پاکستان کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں ایسا شہر نہیں ہوگا جو سندھ حکومت شارع بھٹو کے ساتھ 80 ایکڑ پر بنانے جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد اپنے اندر چھپی صلاحیت کو اجاگر کریں اور اس کے لیے سندھ حکومت ان کے ساتھ بھرپور تعاون کر بھی رہی ہے اور مزید اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ صائمہ سلیم نامی ایک خاتون اس وقت یونائیٹد نیشن میں پاکستان کی نمائندگی کررہی ہے اور وہ دیکھنے سے قاصر ہے یعنی وہ نابینا ہے اور صائمہ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں پاکستان کا نام آج بھی فخر سے بلند کئے ہوئے ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان ایسوسی ایشن آف بلائنڈ سندھ مظفر علی قریشی نے کہا کہ جس طرح سندھ حکومت اور محکمہ انوائرمنٹ اس ادارے کے حوالے سے جو ساتھ دے رہے ہیں وہ قابل ستائش ہے اور آج اس عالمی دن کی مناسبت سے صوبے بھر میں ایسوسی ایشن کی تمام برانچز میں ہم بصارت سے محروم افراد میں آلات کی تقسیم بھی سندھ حکومت کی مدد سے ہی کررہے ہیں اور امید ہے کہ آئندہ بھی سندھ حکومت ہماری معاونت کرتی رہے گی۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خصوصی افراد کے لئے سے محروم افراد ایسوسی ایشن کی ذمہ داری سندھ حکومت افراد میں نے کہا کہ انہوں نے ہے اور

پڑھیں:

بدین :فلٹر پلانٹ ، واش روم سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لینے کیلیے وفد کادورہ

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بدین(نمائندہ جسارت )فلٹر پلانٹ ، واش روم اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے سلسلہ میں واٹر ایڈ اور ایل ایچ ڈی پی کے تعمیراتی منصوبے کا جائزہ لینے کے لئے فارن فنڈنگ ایجنسی اور سندھ اسمبلی کے نمائندگان کا دورہ بدین اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات۔ضلع بدین کی دور دراز یونین کونسلوں کے پسماندہ دیہاتوں کے سرکاری اسکولوں اور بیسک ہیلتھ سینٹر میں صحت، صفائی ، پینے کے صاف پانی ، واش رومز میں معیاری سہولیات اور صحت مند ماحول کی فراہمی کے لیے واٹر ایڈ پاکستان اور لاڑ ہیومینیٹیرین آرگنائزیشن کی جانب 410 دیہاتوں میں جاری واش پروگرام کے تحت جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لئے غیر ملکی فنڈنگ ایجنسی کے نمائندے، واٹر ایڈ پاکستان اور سندھ اسمبلی کے اراکین نے بدین کے مختلف علاقوں اور دیہی یونین کونسل کا تفصیلی دورہ کیا اور اس موقع پر واش فورم کے علاوہ مقامی اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کی۔ وفد میں واٹر ایڈ کی نمائندہ ہمرے انا کاتارزینا، سندھ اسمبلی کے اراکین ایم پی اے قاسم سراج سومرو، ایم پی اے کرن مسعود، ایم پی اے فرح سہیل، واٹر ایڈ سندھ کی ہیڈ رحیمہ پنھور، اور دیگر نمائندے خرم حسن و شانواز دادپوٹو شامل تھے۔ وفد نے بدین کی 16 یونین کونسلوں کے 410 دیہات میں تعمیر کیے گئے واش رومز، واٹر فلٹر پلانٹس، بیسک ہیلتھ سینٹرز میں نصب انسینیٹر یونٹس اور سرکاری اسکولوں میں واش رومز اور فلٹرز پلانٹ کی فراہم کردہ سہولیات کا جائزہ لیا۔ لاڑ ہیومینیٹیرین آرگنائزیشن کے دفتر میں منعقدہ اجلاس میں وفد نے مقامی اسٹیک ہولڈرز، سیاسی اور سماجی شخصیات، دیہی خواتین پر مشتمل واش فورمز، اساتذہ، ہیلتھ ورکرز اور سرکاری اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کی۔

نمائندہ جسارت گلزار

متعلقہ مضامین

  • حکومت متحرک، مستحکم اور جامع کیپٹل مارکیٹ کے قیام کیلیے پْرعزم ہے، وزیر خزانہ
  • بدین :فلٹر پلانٹ ، واش روم سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لینے کیلیے وفد کادورہ
  • ہانگ کانگ میں رہائشی کمپلیکس میں لگی آگ بجھانے اور سرچ اینڈ ریسکیو کی کارروائیاں مکمل
  • پنجاب حکومت کا پیٹرول موٹر سائیکل اور رکشوں کی پیدوار بند کرنیکا فیصلہ
  • کراچی میں پہلی بار ایمبولینس کیلیے خصوصی لین فعال
  • بھارتی گیڈر بھبکی؛ سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے؛ فوج میں بھرتی کیلیے پُرعزم
  • پاکستان ریلوے کا مال گاڑیوں میں ٹریکنگ ڈیوائس لگانے کا منصوبہ
  • پاکستان ریلوے کا مال گاڑیوں کو ٹریک کرنے کے لیے ان پر ٹریکنگ ڈیوائس لگانے کا فیصلہ
  • کراچی سرکلر ریلوے اور ہائی اسپیڈ ٹرین کیلیے عالمی بینک سے تعاون کی اپیل
  • سندھ حکومت کی کراچی سرکلر ریلوے اور ہائی اسپیڈ ٹرین کیلیے عالمی بینک سے تعاون کی اپیل