سندھ حکومت کا خصوصی افراد کیلیے خصوصی شہرتعمیر کرنیکا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت سندھ و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو صحت، تعلیم اور روزگار فراہم کرے اور خصوصی افراد کے لئے ان سہولیات کی فراہمی کی ذمہ داری اس سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ خصوصی افراد کے لئے پاکستان کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں ایسا شہر نہیں ہوگا جو سندھ حکومت شارع بھٹو کے ساتھ 80 ایکڑ پر بنانے جارہی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹرز اپنا کاروبار کرنے آتے ہیں اس لئے ہم ان پر یہ دبائو تو نہیں ڈال سکتے کہ وہ خصوصی افراد کا اپنے کاروبار بھی سرکاری طرح کا کوئی مختص کریں لیکن خصوصی افراد اپنے اندر اتنی صلاحیت پیدا کریں کہ پرائیویٹ سیکٹرز خود ان کو ملازمتیں دینے پر مجبور ہوجائیں۔ سندھ حکومت خصوصی افراد کے لئے جو کچھ بھی کررہی ہے وہ پیپلز پارٹی کے منشور، چیئرمین بلاول بھٹو، آصف علی زرداری اور وزیر اعلٰی سندھ کے وڑن کے تحت کررہی ہے اور یہ کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز “پاکستان ایسوسی ایشن آف بلائینڈ (سندھ) کے تحت بصارت سے محروم افراد کے عالمی دن کے موقع پر “سفید چھری کی حفاظت” کی مناسبت سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ بصارت سے محروم افراد میں معاون آلات کی تقسیم کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے ایسوسی ایشن کے صدر مظفر علی قریشی، عبدالجبار میرانی، فرمان احمد، عمران شیخ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے ایسوسی ایشن کے صوبے بھر کے 19 سینٹرز میںبصارت سے محروم افراد میں معاون آلات کی تقسیم کئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ مجھے ذاتی طور پر اس طرح کی تقریبات میں شرکت کرکے دلی خوشی ہوتی ہے جہاں معاشرے کے خصوصی افراد شریک ہوتے ہیں جو عام انسان کی نسبت اللہ تعالٰی کی مصلحت پر کسی نہ کسی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس یہ بھی حقیقت ہے کہ اس طرح کے خصوصی افراد جو عام افراد کی نسبت کسی کمی کا شکار ہوتے ہیں اللہ تعالٰی نے ان میں کوئی ایک ایسی صلاحیت ضرور رکھی ہوتی ہے، جو عام افراد میں نہیں ہوتی۔ سعید غنی نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو صحت، تعلیم اور روزگار فراہم کرے اور خصوصی افراد کے لئے ان سہولیات کی فراہمی کی ذمہ داری اس سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ خصوصی افراد کے لئے پاکستان کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں ایسا شہر نہیں ہوگا جو سندھ حکومت شارع بھٹو کے ساتھ 80 ایکڑ پر بنانے جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد اپنے اندر چھپی صلاحیت کو اجاگر کریں اور اس کے لیے سندھ حکومت ان کے ساتھ بھرپور تعاون کر بھی رہی ہے اور مزید اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ صائمہ سلیم نامی ایک خاتون اس وقت یونائیٹد نیشن میں پاکستان کی نمائندگی کررہی ہے اور وہ دیکھنے سے قاصر ہے یعنی وہ نابینا ہے اور صائمہ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں پاکستان کا نام آج بھی فخر سے بلند کئے ہوئے ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان ایسوسی ایشن آف بلائنڈ سندھ مظفر علی قریشی نے کہا کہ جس طرح سندھ حکومت اور محکمہ انوائرمنٹ اس ادارے کے حوالے سے جو ساتھ دے رہے ہیں وہ قابل ستائش ہے اور آج اس عالمی دن کی مناسبت سے صوبے بھر میں ایسوسی ایشن کی تمام برانچز میں ہم بصارت سے محروم افراد میں آلات کی تقسیم بھی سندھ حکومت کی مدد سے ہی کررہے ہیں اور امید ہے کہ آئندہ بھی سندھ حکومت ہماری معاونت کرتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خصوصی افراد کے لئے سے محروم افراد ایسوسی ایشن کی ذمہ داری سندھ حکومت افراد میں نے کہا کہ انہوں نے ہے اور
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔