ونڈوز 10 سپورٹ 14 اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے، مگر اسے ایک سال تک مفت حاصل کرنیکا طریقہ جانیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس میں دوسرا سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا آپریٹنگ سسٹم مائیکرو سافٹ کا ونڈوز 10 ہے۔مگر مائیکرو سافٹ کی جانب سے اکتوبر 2025 میں ونڈوز 10 کے لیے سپورٹ ختم کر دی جائے گی۔خیال رہے کہ ونڈوز 10 کو جولائی 2015 میں متعارف کرایا گیا تھا اور ایک دہائی بعد کمپنی کی جانب سے اس کی زندگی ختم کی جا رہی ہے۔14 اکتوبر 2025 کو مائیکرو سافٹ کی جانب سے ونڈوز 10 کے لیے سپورٹ ختم کر دی جائے گی مگر آپ کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس پر اسے استعمال کر سکیں گے۔البتہ کمپنی کی جانب سے ونڈوز 10 کے لیے سافٹ وئیر اور سکیورٹی اپ ڈیٹس جاری نہیں کی جائیں گی اور صارفین کو ونڈوز 11 پر سوئچ کرنے کا مشورہ دیا جائے گا۔اس وقت لگ بھگ 43 فیصد کمپیوٹرز میں ونڈوز 10 کو استعمال کیا جا رہا ہے اور متعدد صارفین اسے ونڈوز 11 سے اپ گریڈ کرنے کے خواہشمند نہیں یا ان کا کمپیوٹراس کا اہل نہیں۔اب صارفین کے پاس بنیادی طور پر 3 آپشنز ہیں۔ایک تو یہی ہے کہ وہ اپنے کمپیوٹر پر ونڈوز 11 کو مفت اپ گریڈ کرلیں، اگر ان کی ڈیوائس اس کی اہل ہے۔دوسرا یہ کہ ایسا نیا کمپیوٹر خریدیں جس میں ونڈوز 11 پہلے سے انسٹال ہو یا کسی متبادل آپریٹنگ سسٹم جیسے میک یا کروم بک پر سوئچ کر جائیں۔تیسرا آپشن یہ ہے کہ ونڈوز 11 کو ابھی بھول جائیں اور ایکسٹینڈ سکیورٹی اپ ڈیٹس (ای ایس یو) پر سائن اپ کریں، تاکہ ایک سال تک ونڈوز 10 پر اپ ڈیٹس موصول ہوتی رہیں۔چونکہ تیسرا آپشن آسان ہے اور اسے مفت بھی حاصل کیا جاسکتا ہے، تو اس پر عملدرآمد کا طریقہ جان لیں۔اگر کمپیوٹر کو سکیورٹی اپ ڈیٹس موصول نہ ہوں تو وقت گزرنے کے ساتھ میل وئیر سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھے گا، مگر ای ایس یو سے ایک سال تک ونڈوز 10 کی سکیورٹی مستحکم رہے گی۔ایک موقع پر مائیکرو سافٹ کی جانب سے 12 ماہ کی ایکسٹینشن کے لیے 30 ڈالرز فیس کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، مگر اب ونڈوز 10 کے صارفین کے لیے ایک مفت راستہ دیا گیا ہے۔آپ سیٹنگز، سسٹم اور اباؤٹ میں جاکر دیکھ سکتے ہیں کہ کمپیوٹر اپ ٹو ڈیٹ ہے یا نہیں۔اگر آپ کمپیوٹر کو گھر میں دیگر افراد سے شیئر کرتے ہیں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایڈمنسٹریٹر اکاؤنٹ سے سائن ان ہوں۔عام طور پر کسی کمپیوٹر میں سب سے پہلے بنایا جانے والا اکاؤنٹ ایڈمنسٹریٹر ہوتا ہے، مگر آپ اسے سیٹنگز اور یور انفو میں جاکر بھی دیکھ سکتے ہیں۔اگر آپ کو ونڈوز 11 اپ گریڈ کا آپشن نظر آئے تو ایسا کرلیں کیونکہ یہ مفت ہے۔اس کے لیے سیٹنگز مینیو میں اپ ڈیٹس اینڈ سکیورٹی کو سلیکٹ کرکے وہاں Enroll now سائن اپ لنک پر کلک کریں۔اگر Enroll now لنک نظر نہیں آرہا تو پھر ممکنہ طور پر کمپیوٹر میں تازہ ترین ونڈوز 10 اپ ڈیٹس انسٹال کرنے کی ضرورت ہوگی۔Enroll now پر کلک کرنے پر آپ کے سامنے چند آپشنز نظر آئیں گے، جن میں سب سے آسان بیک اپ یور پی سی سیٹنگز ہے۔یہ مفت ہے مگر اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ اس کے لیے آپ کو ڈیٹا بیک اپ کی ضرورت ہوگی۔مگر اس مفت آپشنز کے ساتھ 2 شرائط منسلک ہیں، ایک تو یہ کہ آپ کو اپنی ونڈوز لاگ ان کو مائیکرو سافٹ کی کلاؤڈ آن لائن سروس سے منسلک کرنا ہوگا۔دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو مفت بیک اپ کے لیے صرف 5 جی بی اسٹوریج دستیاب ہوگی، جس کے بعد مائیکرو سافٹ ون ڈرائیو سروسز کو ادائیگی کرنے کی ضرورت ہوگی۔مگر آپ ان فائلز کو روک سکتے ہیں جن کا بیک اپ نہیں چاہتے، اس مقصد کے لیے سیٹنگز اور پھر ون ڈرائیو پر کلک کرکے مختلف آپشنز جیسے ڈاکومنٹس، پکچرز اور ویڈیوز کو ٹرن آف کرسکتے ہیں۔ایک بار جب آپ سائن ان ہو جائیں گے تو ایک پوپ اپ ونڈو سامنے آئے گی جس پر لکھا ہوگا کہ ایڈ دس ڈیوائس ٹو ریسیو ایکسٹینڈ سکیورٹی اپ ڈیٹس، وہاں ایڈ ڈیوائس ٹو Enroll پر کلک کریں۔ایسا کرنے کے بعد آپ کے کمپیوٹر کو 12 ماہ تک اپ ڈیٹس کے لیے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مائیکرو سافٹ کی کی جانب سے ونڈوز 10 کے کی ضرورت ونڈوز 11 بیک اپ پر کلک کے لیے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔