سندھ بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ، 5 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
سندھ حکومت نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی۔ محکمہ داخلہ سندھ نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ حکومت کا ٹائر جلانے اور پائرو لائسز پلانٹس پر مکمل پابندی کا فیصلہ
نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت صوبے کے تمام اضلاع میں پانچ سے زائد افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ یہ پابندی ایک ماہ تک نافذالعمل رہے گی۔
سندھ حکومت کے مطابق یہ فیصلہ صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ آئی جی سندھ کی سفارش پر یہ اقدام ممکنہ بدامنی اور قانون شکنی کے واقعات کی روک تھام کے لیے اٹھایا گیا۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جائے گی، جبکہ تمام متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو فوری مقدمات درج کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب اور سندھ حکومت کا سیلاب متاثرین کی امداد پر مناظرے کا چیلنج، کب اور کہاں ہوگا؟
حکومتِ سندھ کا کہنا ہے کہ امنِ عامہ کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ناگزیر تھے، لہٰذا حکم نامہ فوری طور پر مؤثر ہوگیا ہے اور اس پر صوبے کے تمام اضلاع میں سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
144 اجتماع پر پابندی دفعہ 144 سندھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اجتماع پر پابندی سندھ حکومت کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔