ریڈ لائن منصوبہ تاخیر کا شکار، رپورٹ عدالت میں جمع
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر+ مانیٹرنگ ڈیسک) محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے ریڈ لائن منصوبے میں تاخیر سے متعلق رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں پیش کردی۔ سندھ ہائیکورٹ نے الکرم اسکوائر لیاقت آباد میں غیر قانونی بس اڈوں کے خلاف درخواست محکمہ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور ٹریفک پولیس کی رپورٹ کے بعد نمٹادی، سرکاری وکیل نے آگاہ کیا کہ عدالتی احکامات کے مطابق الکرم اسکوائر سے بس اڈے ختم کرادیے ہیں ، ٹریفک پولیس کی جانب سے رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرادی تھی،درخواست کا مقصد پورا ہوچکا ہے لہٰذا درخواست نمٹادیں۔ تفصیلات کے مطابق ریڈ لائن منصوبے کی رپورٹ کے مطابق سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی سربراہی میں تمام شراکت داروں کے ساتھ ثالثی میٹنگ منعقد کی گئی تاہم شراکت داروں نے معاہدے کے مطابق ثالثی کے ذریعے تنازع کے حل پر اتفاق کیا۔ معاہدے کے مطابق تنازع کے حل کیلیے ثالثی پر اتفاق کیا گیا تھا، ٹرانس کراچی نے کنٹریکٹر کی ثالثی کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے سابق جج جسٹس(ر) عارف حسین خلجی کو بطور ثالث نامزد کیا گیا تھا تاہم کنٹریکٹر نے اس نامزدگی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنا نام پیش کر دیا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کنٹریکٹر نے مالی شرائط نہ ماننے پر کام کی رفتار سست کرنے یا مکمل طور پر روک دینے کی دھمکی بھی دی ہے جو کہ عوامی فنڈ سے جاری اس اہم منصوبے کیلیے نقصان دہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔